کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 535
ڈاکخانہ چیتال گڑھ، موضع جھنگی پور پاس بندہ معتبر خان اور طلاق پہلی تاریخ کو دیا ہے۔ جواب: نابالغ کے طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ہدایہ میں ہے: ’’لا یقع طلاق الصبي والمجنون والنائم لقولہ علیہ السلام : کل طلاق جائز إلا طلاق الصبي والمجنون‘‘[1] اھ [بچے، مجنون اور سوئے ہوئے کی (دی ہوئی) طلاق واقع نہیں ہوتی، اس کی دلیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: بچے اور مجنون کے علاوہ ہر ایک کی طلاق جائز ہے] جب نابالغ کا طلاق ہوا ہی نہیں تو اور سوالوں کے جواب کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہاں اس بات کا جان لینا بہت ضروری ہے کہ گویا مسئلہ عام طور پر مشہور ہوگیا ہے کہ حالتِ نابالغی کا بھی نکاح صحیح ہے اور اسی پر بہت لوگوں کا عمل بھی جاری ہوگیا ہے، مگر اس نکاح کے صحیح ہونے کا کوئی کافی ثبوت نہیں ملتا ہے، لہٰذا ایسے نکاح سے پرہیز کرنا چاہیے اور یہ دونوں شخص جن کا ذکر سوال میں ہے، جب بالغ ہوجائیں تو بعد بلوغ ان دونوں کے پھر سے نکاح کر دیے جائیں ۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۸؍ جمادی الأولی ۱۳۳۲ھ) حالتِ مجبوری میں طلاق واقع نہیں ہوتی: سوال: بکر نے زید کی لڑکی ہندہ سے ایک سو پچھتر روپیہ مہر متعین کر کے اس شرط پر نکاح کیا کہ مہر کے عوض میں تمھارے مکان میں سات سال تک کام کرتا رہوں گا، چونکہ ادائے نقد سے مجبور ہوں ، لہٰذا سات سال تک کام کاج کر کے مہر متعین ایفا کر دے گا اور یہ شرط قبل ایجاب و قبول کے استقرار پائی ہے۔ یہ شرط مذکورہ بالا بعد عقد خوانی کے بھی زید نے بکر سے مابین چند اشخاص کے توثیق کرائی، تاکہ یہ شرط حاضرانِ مجلس کو بھی گوش زد ہوجائے، بموجب اس شرط کے بکر نے زید کے مکان پر تخمیناً ایک سال تک باحسنِ اسلوب اوقات بسر کی۔ بعد اس کے زید نے بکر سے ہر قیل و قال میں سوء مزاجی شروع کی، تب بکر نے تنگ دل ہو کر ارادہ گریز کیا، زید اس امر پر متنبہ ہو کر بکر کو لطائف الحیل سے محبوس کیا اور کہا کہ جب تم بھاگتے ہو، تب تم کو دو شق اختیار کرنا لا بدی ہے، یا تو طلاق دو یا خوروپوش دو۔ بکر نے حالتِ حبس میں کہا: نہ میں طلاق دیتا ہوں نہ خورو پوش دے سکتا ہوں ، چونکہ میں اس وقت تہی دست ہوں ، لہٰذا خورو پوش دینے سے مجبور و معذور ہوں ۔ اس وقت زید نے غیظ و غضب میں آکر بکر کو ضرب و شتم کا آغاز کیا۔ بکر نے عاجز ہو کر طلاق دیا اور ساری شب مقید رکھا، حتی کہ بول و براز کے واسطے بھی نکلنے نہ دیا۔ صبح کو زید کے قرب و جوار کو بلوایا اور وہ لوگ بکر کی گریہ وزاری سنا اور ان میں سے ایک معتمد علیہ نے پوچھا کہ تم کیوں روتے ہو؟ بکر نے کہا کہ شب کو مجھے زبردستی طلاق لے لیا اور میرا اسباب بھی بند کیا۔ آخر الامر شخص مذکور نے بکر کو بہت کچھ سمجھایا کہ جس میں کسی طرح سے شرطیہ طلاق نامہ لکھوا لیا، بعد اس کے وہ شرط مذکور الفوق ایک کاغذ پر لکھوا کر ان سے دستخط کروا لیا۔ بکر نے چند دنوں کے بعد مجبوراً وہاں سے گریز کیا۔ اب اس صورت مذکورہ بالا میں بکر کی زوجہ ہندہ پر طلاق واقع ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ جواب: اس صورت میں یہ دیکھنا چاہیے کہ بکر سے جس وقت طلاق دلوائی گئی تھی، اس وقت بکر کی حالت پر اِکراہ کی تعریف صادق آتی تھی یا نہیں ؟ اگر اِکراہ کی تعریف صادق آتی تھی تو ہندہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی اور اگر بکر پر اِکراہ کی تعریف اس وقت صادق نہیں آتی تھی تو اس حالت میں ہندہ پر طلاق ہوگئی۔ [1] الھدایۃ (۱/ ۲۲۹) ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث مرفوعاً ثابت نہیں ہے، البتہ سنن الترمذي (۱۱۹۱) میں ان الفاظ (( کل طلاق جائز إلا طلاق المعتوہ المغلوب علیٰ عقلہ )) کے ساتھ ایک حدیث مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : نصب الرایۃ (۴/ ۲۰۹) ضعیف الجامع، رقم الحدیث (۴۲۴۰)