کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 533
نہ ہوتی تو طلاق دینا یا خلع کرنا کچھ ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ عورت کے فعل ناجائز سے خود عورت پر اس کا گناہ عائد ہوا، مرد پر اس کا مواخذہ نہیں ہے اور نہ اس سے نکاح فسخ ہوا۔ ﴿فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ﴾ [البقرۃ: ۲۲۹] [پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں الله کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں ، جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے] عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما قال: جاء ت امرأۃ ثابت بن قیس بن شماس إلی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقالت: یا رسول اللّٰه ! إني ما أعتب علیہ في خلق ولا دین، ولکني أکرہ الکفر في الإسلام، فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( أتردین علیہ حدیقتہ؟ )) قالت: نعم۔ فقال: رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( اقبل الحدیقۃ، وطلقھا تطلیقۃ )) [1] (رواہ البخاري) [عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس (ثابت بن قیس اپنے شوہر) پر دین یا اخلاق کے لحاظ سے کوئی عیب نہیں لگاتی، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر کے کام کرنا ناپسند کرتی ہوں ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تو اس کا دیا ہوا باغ اسے واپس کر دے گی؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت بن قیس کو) فرمایا: باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو] وعن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما أن رجلا جاء إلی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال: إن امرأتي لا ترد ید لامس؟ قال: ((غربھا )) قال: أخاف أن تتبعھا نفسي۔ قال: (( فاستمتع بھا )) [2] (رواہ أبو داود و البزار، ورجالہ ثقات، وأخرجہ النسائي من وجہ آخر عن ابن عباس بلفظ: قال: ((طلقھا )) قال: لا أصبر عنھا۔ قال: (( فأمسکھا )) بلوغ المرام، ص: ۷۳) [عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میرے نکاح میں ایک ایسی عورت ہے، جو کسی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے طلاق دے دے۔‘‘ وہ کہنے لگا: مجھے خطرہ ہے کہ میرا دل اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے فائدہ اٹھاتا رہ] کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ أبو محمد إبراہیم۔ الجواب صحیح۔ شیخ حسین بن محسن عرب۔ تاریخ (۵؍ شعبان ۱۳۰۸ھـ) مطابق (۱۶؍ مارچ ۱۸۹۱ء) [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۹۷۱) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۰۴۹) سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۴۶۴)