کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 526
جواب: صورتِ مسؤلہ میں صرف ایک طلاق رجعی پڑی اور بعد کو جو زید نے دوبارہ لفظ ’’طلاق دیا‘‘ کہا، وہ لغو ہوگیا، لیکن بالقصد کہا تو گنہگار ہوا۔ قال اللّٰه تعالیٰ:﴿وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ﴾ (سورۂ بقرۃ، رکوع: ۲۹) [اور جب تم عورتوں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اچھے طریقے سے رکھ لو، یا انھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو] وقال تعالیٰ:﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ﴾ [بقرۃ، ع: ۲۹] في مسند الإمام أحمد (۲/ ۲۶۵): ’’حدثنا عبد اللّٰه حدثني أبي ثنا سعد بن إبراھیم ثنا أبي عن محمد بن إسحاق حدثني داود بن الحصین عن عکرمۃ مولی ابن عباس عن ابن عباس قال: طلق رکانۃ بن عبد یزید أخو بني مطلب امرأتہ ثلاثا في مجلس واحد فحزن علیھا حزنا شدیدا۔ قال: فسألہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( کیف طلقتھا؟ )) قال: طلقتھا ثلاثا۔ قال: فقال: (( في مجلس واحد؟ )) قال: نعم۔ قال: (( فإنما تلک واحدۃ، فارجعھا إن شئت )) قال: فرجعھا‘‘ الحدیث (في المشکوۃ، ص: ۲۷۶) [1] [مسند امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ میں ہے، ہمیں عبد الله نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا، انھوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا، انھوں نے کہا کہ مجھے داود بن حصین نے بیان کیا، وہ عکرمہ مولی ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ، وہ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں کہ بنو مطلب کے ایک فرد رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں ، پھر وہ اس پر سخت غمگین ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ ’’تم نے اس (اپنی بیوی) کو کیسے طلاق دی؟‘‘ رکانہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’کیا ایک ہی مجلس میں ؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ صرف ایک طلاق ہی ہے، اگر تم چاہو تو اس سے رجوع کر لو۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رجوع کر لیا] ’’عن محمود بن لبید قال: أخبر رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعا، فقام غضبان، ثم قال: (( أیلعب بکتاب اللّٰه ، وأنا بین أظھرکم؟ )) حتی قام رجل فقال: یا رسول اللّٰه ! ألا أقتلہ؟‘‘[2] (روہ النسائي) و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا، جس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی [1] مسند أحمد (۱/ ۲۶۵) [2] سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۴۰۱)