کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 518
کہ کوئی صورت اس کے پاس رہنے کی ہو تو ہم رکھتے۔ اس صورت میں حضور کے پاس سوال جاتا ہے اور پہلی طلاق سے آج تک دو مہینہ گزرا ہے، ازروئے شریعت کے ارقام فرمائیں ۔ جواب: جس شخص نے اپنی عورت کو دو مہینے کے عرصہ میں تین طلاق دے دیا، اگر پہلا طلاق دے کر بلا رجعت دوسرا طلاق دے دیا، اسی طرح دوسرا طلاق دے کر بلا رجعت تیسرا طلاق دے دیا، تو جب تک پہلے طلاق کی عدت نہ گزرے، رجعت کر سکتا ہے، یعنی طلاق کو واپس لے سکتا ہے اور جب طلاق کو واپس لے لے گا تو وہ عورت اس کی بی بی ہوجائے گی اور وہ اس بی بی کے ساتھ رہ سکتا ہے اور اگر عدت گزر گئی ہو تو اگر دونوں راضی ہوں تو پھر دونوں میں جدید نکاح ہو سکتا ہے۔ صحیح مسلم (۱/ ۴۷۷ چھاپہ دہلی) میں ہے: ’’عن ابن عباس قال: کان الطلاق علی عھد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم وأبي بکر وسنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ‘‘[1]الحدیث۔ و اللّٰه أعلم بالصواب [عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا] جس عورت کو حیض آتا ہو، اس کی عدت تین حیض ہے:﴿وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓئٍ﴾ (سورۂ بقرۃ: ۲۲۸) [اور وہ عورتیں جنھیں طلاق دی گئی ہے، اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں ] جس عورت کو حیض نہ آتا ہو، اس کی عدت تین مہینے ہیں اور جس عورت کو حمل ہو، اس کی عدت وضع حمل ہے۔﴿وَالِّٰی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُھُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ وَّالِّٰیئ لَمْ یَحِضْنَ﴾ [سورۂ طلاق رکوع ۱] و اللّٰه أعلم بالصواب [اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں ، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا] کتبہ: عبد اللّٰه تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا: سوال: زید نے اپنی بیوی کو حالتِ غصہ میں طلاق دے دی اور رجوع کر لیا، پھر ایک سال کے بعد بیوی کو غصہ ہو کر طلاق دے دی، پھر رجوع کر لیا، پھر دو ایک سال کے بعد آپس میں جھگڑا ہوا اور اس جھگڑے میں بیوی نے شوہر کو کہا: تیری ماں تیری بیوی ہے۔ اب یہ بات سن کر غصہ ہوگیا اور طلاق دے دی۔ اب سوال یہ ہے کہ تین طلاق کے بعد اس بیوی کو لے سکتا ہے یا نہیں ؟ اس مسئلے میں اگر محدثین کا اختلاف ہو تو صحیح مذہب اور راجح قول بادلائل مع حوالہ قرآن و حدیث دے کر تسلی فرمائیں ۔ جواب: صورتِ مسؤلہ میں زید نے اگر پہلی اور دوسری اور تیسری طلاق جو بحالتِ غصہ ہے، اگر اس کا یہ غصہ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۷۲)