کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 503
نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا، انھوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا، انھوں نے کہا کہ مجھے داود بن حصین نے بیان کیا، وہ عکرمہ مولی ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ، وہ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں کہ بنو مطلب کے ایک فرد رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں ، پھر وہ اس پر سخت غمگین ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ ’’تم نے اس (اپنی بیوی) کو کیسے طلاق دی؟‘‘ رکانہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’کیا ایک ہی مجلس میں ؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ صرف ایک طلاق ہی ہے، اگر تم چاہو تو اس سے رجوع کر لو۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رجوع کر لیا] ’’عن محمود بن لبید قال: أخبر رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعا، فقام غضبان، ثم قال: (( أیلعب بکتاب اللّٰه ، وأنا بین أظھرکم؟ )) حتی قام رجل فقال: یا رسول اللّٰه ! ألا أقتلہ؟‘‘[1] (رواہ النسائي، مشکوۃ المصابیح، ص: ۲۷۶) [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا، جس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’کیا میری موجودگی میں الله تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جاتا ہے؟‘‘ حتی کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں ؟] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۷؍ شوال ۱۳۲۹ھ) سوال: ایک شخص نے اپنے والدین کے روبرو اپنی بی بی کو طلاق دے دی۔ ایک مہینے کے بعد اپنے والدین کے کہنے اور دوسروں کے اصرار سے باوجود نا اتفاقی کے اس عورت سے رجعت کر کے ہم بستر ہوا اور ہنوز وہ نا اتفاقی چلی آتی ہے تو قرآن و حدیث کے رو سے وہ طلاق جائز ہے یا نہیں اور اب پھر شرعاً طلاق دینے کا مجاز ہے یا نہیں ؟ اور دینِ مہر دینا ہوگا یا کیا؟ مع شرائط طلاق تحریر فرمائیے۔ جواب: صورتِ سوال میں مرد جو عورت کو طلاق دے چکا ہے، شرعاً جائز ہوا، بشرطیکہ وہ طلاق حیض میں نہ دیا ہو، بلکہ ایسے طہر میں دیا ہو، جس میں وطی نہ کی ہو اور اس عورت سے رجعت کرنے کے بعد جو پھر ہم بستر ہوا تو بھی اس کو طلاق شرعاً دے سکتا ہے، اسی شرط سے جو اوپر مذکور ہوئی اور دینِ مہر اس عورت کو مرد پر دینا لازم ہے۔ قال اللّٰه تعالیٰ:﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ﴾ [سورۂ بقرۃ، رکوع ۲۹] [یہ طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے] [1] سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۴۰۱)