کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 50
فتح الباری شرح صحیح بخاری (۵/ ۷۰۴) میں ہے: "قال ابن التین: لا معارضۃ بین حدیث ابن عمر والآیۃ، لأن الموتیٰ لا یسمعون بلا شک، لکن إذا أراد اللّٰه إسماع ما لیس من شأنہ السماع، لم یمتنع، کقولہ تعالیٰ: ﴿اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ﴾ الآیۃ، وقولہ: ﴿فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا﴾ الآیۃ۔ انتھی" [ابن التین رحمہ اللہ نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث اور آیت میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ بلاشبہ مردے نہیں سنتے ہیں ، لیکن جب الله تعالیٰ اس کو سنانے کا ارادہ کرے، جو سنا نہیں کرتا تو اس میں کوئی مانع اور رکاوٹ بھی نہیں ہے۔ جیسے الله تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ﴾ [الأحزاب: ۷۲] (بے شک ہم نے امانت کو (آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے) پیش کیا) اور الله تعالیٰ کا یہ ارشادہے: ﴿فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا﴾[حم السجدۃ: ۱۱] (تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی یا ناخوشی سے) ] اس مسئلے کے متعلق میرا ایک مضمون فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۱۱ و ۴۱۲ و ۴۱۳) میں بھی درج ہے، اس کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ ھذا ما عندي، و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ أملاہ: محمد عبد الرحمن المبارکفوري ۔عفا اللّٰه عنہ (۱۳؍جمادی الاولیٰ ۱۳۵۳ھ،) فضیلتِ شیخین:[1] سوال:1۔ کیا فرماتے ہیں علماے دین اس میں کہ یہ جو کتبِ عقائد مثل عقیدہ صابونیہ و عقیدہ واسطیہ و انتقاد رجیح وغیرہا میں مندرج ہے کہ افضل اس اُمت کے بعد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ، یہ امر شرعی ہے یا غیر شرعی ہے؟ برتقدیرِ ثانی یہ کہنا جائز ہے یا نہیں کہ حضرت علی افضل ہیں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے اور عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے؟ سوال:2۔ جس شخص کا یہ مقولہ ہو کہ اگر کوئی علی رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل کہے تو اس کو بھی سچا دین دار جانتا ہوں اور اس ترتیب کو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ افضل ہیں عمر رضی اللہ عنہ سے اور عمر رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ سے اور عثمان رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ سے غیر شرعی جانتا ہوں ، ایسا شخص کیسا ہے؟ مخالف عقیدہ سلف کے ہے یا موافق اور سلف اہلِ سنت و علماے محدثین کا اس میں کیا عقیدہ تھا؟ سوال:3۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیوں لڑیں : آیا بوجہ خلافت کے یا بجہتِ طلب قاتلانِ عثمان رضی اللہ عنہ کے؟ بر تقدیر ثانی، اہلِ جمل کا قتال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بحکم یا رضا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے تھا یا درمیان [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۵۷)