کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 499
ھو الموفق: صورتِ مسؤلہ میں زید کی لڑکیاں بکر کے پسر کے رضاعی بھائی کی نسبی بہنیں ہوئیں اور رضاعی بھائی کا نسبی بہن سے نکاح کرنا بلاشبہ جائز ہے۔ فقہائے حنفیہ نے بھی اس کی تصریح کی ہے۔ شرح وقایہ میں ہے: ’’وتحل أخت أخیہ رضاعا کما تحل نسبا کأخ من الأب، لہ أخت من أمہ، تحل لأخیہ من أبیہ‘‘[1]انتھی [اس کے رضاعی بھائی کی بہن حلال ہے، جس طرح نسبی بھائی کی بہن حلال ہے، جیسے علاتی بھائی کی ایک اخیافی بہن ہے تو وہ اپنے علاتی بھائی کے لیے حلال ہوگی] ’’عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ‘‘ میں ہے: قولہ: رضاعا۔ یصح اتصالہ بالمضاف إلیہ وبالمضاف وبکلیھما، کأن یکون لک أخ نسبي، لہ أخت رضاعیۃ، فھي حلال علیک، وکذا إذا کان لک أخ رضاعي، لہ أخت نسبیۃ، وکذا الأخت الرضاعیۃ للأخ الرضاعي، والوجہ فیہ أن المحرم من الرضاع إنما ھو ما یحرم من النسب، ومثل ھذہ القرابۃ من النسب، قد یکون غیر محرمۃ، فلا یحرم مثلھا من الرضاع‘‘ انتھی [اس کا قول: ’’رضاعاً‘‘ تو اس کا تعلق مضاف الیہ ’’أخیہ‘‘، مضاف ’’أخت‘‘ اور مضاف و مضاف الیہ دونوں کے ساتھ ہو سکتا ہے، گویاکہ تمھارا ایک نسبی بھائی ہو، اس کی ایک نسبی بہن ہو تو تمھارے لیے اس سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ اسی طرح جب تمھارا ایک رضاعی بھائی ہو، اس کی ایک نسبی بہن ہو اور یہی معاملہ رضاعی بہن کا رضاعی بھائی کے ساتھ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رضاعی رشتہ تو صرف وہی حرام ہے، جو رشتہ نسب سے حرام ہے اور اس طرح کی قرابت و رشتے داری بعض اوقات حرام نہیں ہوتی تو پھر اس طرح کا رضاعی رشتہ بھی حرام نہیں ہوگا] نیز ’’عمدۃ الرعایۃ‘‘ میں ہے: ’’قولہ: کأخ من الأب۔ صورتہ أن یکون لک أخ من الأب أي یکون أبوک وأبوہ واحدا، وأمک غیر أمہ، بأن تزوج أبوک امرأتین، أحدھما أمک، والثانیۃ أم أخیک، وکانت لأخیک المذکور أخت من الأم، بأن کان أمہ متزوجۃ قبل أبیک بزوج آخر فولدت منہ بنتا فھي حلال علیک اتفاقا‘‘ انتھی و اللّٰه تعالیٰ أعلم [اس کا یہ قول: ’’جیسے علاتی بھائی‘‘ اس کی صورت یہ ہے کہ تمھارا ایک علاتی بھائی ہو، یعنی تمھارا اور اس کا [1] شرح الوقایۃ (۱/ ۳/ ۵۳) طبعۃ الوراق۔ عمان