کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 490
بھی ساقط نہ ہوگا، بلکہ سابق دستور دینا ہوگا۔ شرح وقایہ میں ہے: ’’لا لناشزۃ خرجت من بیتہ بغیر حق‘‘ و اللّٰه أعلم بالصواب [اس نافرمان عورت کے لیے نہیں جو ناحق اس (اپنے شوہر) کے گھر سے نکل کر چلی گئی ہو] اگر عورت مہر معاف کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرے؟ سوال: زید نے قضا کیا۔ بعد ایک دن کے اس کی زوجہ ہندہ نے پچاس ساٹھ عورتوں کے سامنے بطیب خاطر یہ کہا کہ ہم نے کل دین مہر اپنے زوج کا معاف کر دیا، پھر چند دن کے بعد بھی دو مرد کے سامنے جو اس کے اہلِ قرابت سے ہیں ، اپنے دین کی معافی کا اقرار کیا اور کہا کہ ہم نے اپنے زوج کا دین معاف کر دیا ہے، پھر اس کے عرصہ کے بعد دو ایک عورت مفتریہ مفسدہ نے ہندہ کو بہکایا اور اغوا کرنا شروع کیا کہ تم نے دین کیوں معاف کر دیا؟ تم اس معافی سے انکار کر جاؤ اور کہو کہ ہم نے معاف نہیں کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ گواہان و شاہدان عادل اس کے معافی دین کے موجود ہیں اور وہ لوگ شہادت معافی دین کی دیتے ہیں ، اس حالت میں وہ دینِ مہر زید میت کے ذمہ سے ساقط ہوگیا یا ورثہ زید پر اُس دین کی اداکاری واجب و لازم ہے اور اب انکار سے ہندہ کے وہ شے ساقط شدہ عود کرے گی یا نہیں ؟ جواب: اس صورت میں وہ دینِ مہر زید میت کے ذمہ سے ساقط ہوگیا اور ورثہ زید پر اُس دین کی اداکاری واجب و لازم نہیں ہے، جب وہ دینِ مہر زید میت کے ذمہ سے ساقط ہوگیا تو اب ہندہ کے انکار سے وہ دینِ مہر ساقط شدہ عود نہیں کرے گا۔ کتاب اشباہ و نظائر مع حموی (ص: ۳۹۱ چھاپہ مصطفائی دہلی) میں ہے: ’’ظاھر المذہب وعلیہ الفتویٰ أن الحق متی ثبت واستقر لا یسقط إلا بإسقاطہ، وھو الصریح بلسانہ کما في سائر الحقوق‘‘[1] اھو اللّٰه أعلم بالصواب [ظاہر مذہب یہ ہے اور اسی پر فتویٰ ہے کہ حق جب ثابت ہو جائے تو وہ اس (حق دار کے) ساقط کیے بغیر ساقط نہیں ہوتا، جب کہ وہ (حق دار) اپنی زبان کے ساتھ صراحتاً اس کو ساقط کر دے، جیسا کہ تمام حقوق میں دستور ہے] کتبہ: محمد عبد الله (مدرسہ احمدیہ آرہ) کیا نابالغ لڑکی ملاپ سے پہلے خاوند کی وفات کے بعد مکمل مہر کی حق دار ہو گی؟ سوال: ما قولکم رحمکم الله تعالیٰ! اندریں مسئلہ مثلاً زید نابالغ کا نکاح ہندہ نابالغہ کے ساتھ بعوض ایک سو پچاس روپیہ دین مہر کے ہوا۔ چند روز کے بعد حالتِ نابالغی میں زید کا انتقال ہوا، لیکن ہندہ کے ساتھ زید کی ہمبستری و مساس و خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی۔ اس صورت میں ہندہ مذکورہ کل دینِ مہر کی مستحق ہوگی یا نصف کی؟ جیسا کہ ان غیر ممسوسہ مطلقہ کے باب میں کلام مجید میں آیا ہے: ﴿وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ﴾ [البقرۃ: ۲۳۷] [1] غمز عیون البصائر في شرح الأشباہ والنظائر للحموي (۵/ ۳۷۳)