کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 49
ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں اور اسی کی تائید حدیث (( نم کنومۃ العروس ))[1] [دلہن کی طرح سو جا] سے بھی ہوتی ہے، لیکن بعض احادیث صحیحہ سے خاص اوقات و مواقع میں مردوں کا سننا ثابت ہوتا ہے، جیسے حدیثِ انس رضی اللہ عنہ سے، جس میں یہ لفظ واقع ہے: (( إنہ لیسمع قرع نعالھم ))[2] (رواہ البخاري) [وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے] اور جیسے حدیثِ ابن عمررضی اللہ عنہما سے، جس میں یہ لفظ واقع ہے: (( ما أنتم بأسمع منھم ))[3] (رواہ البخاري أیضاً) [تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے] اور جیسے حدیثِ بریدہ رضی اللہ عنہ سے، جس میں یہ لفظ واقع ہے: "کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یعلمھم إذا خرجوا إلی المقابر: السلام علیکم أھل الدیار۔۔۔ الخ"[4] (رواہ مسلم) [جب وہ قبرستان جانے کا ارادہ کرتے تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ دعا سکھایا کرتے تھے: ’’اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو۔۔۔ الخ‘‘] پس دونوں آیات مذکورہ بالا اور ان احادیث کے درمیان جمع و توفیق کی صورت یہ ہے کہ مرُدے سنتے نہیں ، لیکن جب الله تعالیٰ کسی خاص وقت یا کسی خاص موقع میں ان کو سنانا چاہتا ہے تو وہ سن لیتے ہیں ۔ تفسیر فتح البیان مصنفہ نواب صدیق حسن خان صاحب (۷/ ۸۵) میں ہے: "وظاھر نفي سماع الموتیٰ العموم، فلا یخص منہ إلا ما ورد بدلیل، کما ثبت في الصحیح أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم خاطب القتلیٰ في قلیب بدر، فقیل لہ: یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم إنما تکلم أجسادا لا أرواح لھا؟ وکذلک ما ورد من أن المیت یسمع خفق نعال المشیعین لہ إذا انصرفوا" انتھی [مردوں کے سننے کی نفی کا ظاہری مفہوم اس کا عموم ہے، اس سے صرف وہی خاص ہوسکتا ہے، جو دلیل کے ساتھ وارد ہوا ہو، جیسا کہ صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے ایک کنویں میں پڑے ہوئے مقتولین سے خطاب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسے جسموں سے کلام کر رہے ہیں ، جن میں روحیں نہیں ہیں ؟ اسی سلسلے میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ مردہ اس وقت رخصت کرنے والوں کے جوتوں کی آہٹ کو سنتا ہے، جب وہ اسے رخصت کر کے واپس لوٹتے ہیں ] [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۰۷۱) السلسلۃ الصحیحۃ، رقم الحدیث (۱۳۹۱) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۲۷۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۷۰) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۳۰۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۷۳) [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۷۵)