کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 481
کہ اَیِّم عورت اپنے نفس کے ساتھ بہ نسبت اپنے ولی کے زیادہ حق رکھتی ہے، مگر اس حدیث میں یہ مذکور نہیں کہ عورت مذکورہ کس امر میں بہ نسبت اپنے ولی کے زیادہ حق رکھتی ہے؟ ظاہر یہ ہے کہ اذن میں بہ نسبت ولی کے زیادہ حق رکھتی ہے، پس اس صورت میں اس حدیث سے صرف اس قدر ثابت ہوگا کہ اگر عورت مذکورہ کے اذن اور اس کے ولی کے اذن میں تعارض واقع ہو تو عورت مذکورہ کا اذن ولی کے اذن پر مقدم سمجھا جائے گا، یعنی اگر عورت مذکورہ کا ولی اس کے کسی کفو شخص سے اس کا نکاح کر دینا چاہے اور عورت مذکورہ اس نکاح کو نامنظور کرے تو ولی عورت مذکورہ کا نکاح اس شخص سے نہیں کر سکتا اور اگر عورت مذکورہ چاہے کہ میرا نکاح فلاں شخص کفو سے کر دیا جائے تو ولی کو اس کا نکاح اس شخص سے کر دینا ہوگا اور اگر ولی نا منظور کرے گا اور نا منظوری پر اصرار کرے گا تو ولیِ مذکور ولایت سے معزول ہو جائے گا اور عورت مذکورہ کا کوئی اور ولی جو درجۂ ولایت میں ولی مذکور کے بعد ہے، عورت مذکورہ کا نکاح اس شخص سے کر دے گا اور اگر وہ بھی نامنظور کرے گا اور نا منظوری پر اصرار کرے گا تو وہ بھی معزول ہو جائے گا اور اس کے بعد کے درجہ کا ولی عورت مذکورہ کا نکاح اس شخص سے کر دے گا اور اگر عورت مذکورہ کے تمام اولیا اسی طرح نامنظور کرتے جائیں گے تو سب کے سب معزول ہوتے چلے جائیں گے اور جب کوئی ولی باقی نہ رہے گا تو آخر میں سلطان اس کا نکاح کر دے گا کہ اس صورت میں سلطان ہی اس کا ولی ہے، جیسا کہ حدیث اول کے آخر میں ہے: (( فالسلطان ولي من لا ولي لہ)) [1] الحاصل حدیثِ ثانی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عورت مذکورہ اپنا نکاح بغیر اذن اپنے ولی کے کر سکتی ہے، بلکہ جو کچھ ثابت ہوتا ہے، وہ صرف اس قدر ہے کہ اذنین کے تعارض کے وقت عورت مذکورہ کا اذن مقدم سمجھا جائے گا، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا اور ظاہر ہے کہ اس معنی میں اور حدیثِ اول کے معنی میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ جمع کی ضرورت ہو۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۶؍ جمادی الآخرہ ۱۳۳۱ھ) نکاح کے بعد ولی کی رضا کا حکم: سوال: ایک شخص مسافرت کو گیا ہے اور اس کی لڑکی کا نکاح جو نابالغ ہے، بھائی نے بلا اِذن اس کے کر دیا اور جب وہ باہر سے آیا تو اس کے بھائی نے اس کی لڑکی کا جو نکاح کر دیا تھا، اس کو سن کر راضی ہے، تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: یہ صورتِ نکاح جائز ہے۔ بیٹے کی موجودگی میں دادا ولی نہیں بن سکتا: سوال: اگر باپ بیٹے میں نا اتفاقی ہو اور باپ اپنے بیٹے کی لڑکی، یعنی اپنی پوتی کا عقد اپنے بیٹے کے ہوتے ہوئے، یعنی بغیر بیٹے کی رضا مندی کے کسی سے نکاح کر دے تو یہ نکاح جائز ہوا یا ناجائز؟ جواب: یہ نکاح ناجائز ہوا، اس لیے کہ باپ کے رہتے ہوئے دادا ولی نہیں ہے۔ پس یہ نکاح بلااجازت ولی کے ہوا اور [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۰۸۳)