کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 48
مسلمان ہیں اس کے وہی حقوق ہیں جو ایک مسلمان کے ہیں اور اس کے ذمے وہی فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے ہیں ] کتبہ: محمد عبد اللّٰه کس کی سنت حجت ہے؟ سوال: زید کہتا ہے کہ سوائے افعال و اقوالِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم و خلفاے راشدین و صحابہ مجتہدین رضی اللہ عنہم کسی کا فعل سنت نہیں ہے اور عمرو کہتا ہے کہ سوائے قسمیں سنت متذکرہ بالا کے افعال و اقوالِ علما بھی سنت ہیں ؟ جواب: زید اور عمرو جس سنت میں اختلاف کرتے ہیں ، اگر ان کی مراد اس سے شرعی سنت ہے، جس کی پیروی علی العموم کل اہلِ اسلام پر لازم ہے تو ما سوا رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے اقوال و افعال و تقاریر سنت نہیں ہوسکتے۔ باقی خلفاے راشدین کے اقوال و افعال بحکم (( علیکم بسنتي و سنۃ الخلفاء الراشدین ))[1] سنت میں داخل ہوں گے۔ پس خلفاے راشدین کے اقوال و افعال گویا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قولی ٹھہری۔ و الله أعلم بالصواب۔ کتبہ: أبو الفیاض محمد عبدالقادر اعظم گڑھی مؤی تقلیدِ شخصی کی شرعی حیثیت: سوال: بعض علما و فقہا نے ایک امام کی تقلید کو واجب ٹھہرایا ہے اور اس پر بہت کچھ دلائل پیش کیے ہیں ، چناچہ نواب قطب الدین خان صاحب مرحوم نے تنویر الحق میں تقلید شخصی کے وجوب پر بڑا زور دیا ہے اور مولانا شاہ ولی الله صاحب محدث دہلوی مرحوم نے "الإنصاف" میں لکھا ہے:"والتقلید فیہ مصلحۃ عظیمۃ" [تقلید میں بہت بڑی مصلحت ہے] جواب: ایک امام کی تقلید کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے۔ کیا عباداتِ بدنیہ کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے؟ سوال: عبادات بدنیہ مثل نماز و روزہ و اعتکاف و تلاوتِ قرآن شریف کا ثواب اموات کو مطابق احادیثِ صحیحہ و اقوالِ ائمہ اربعہ پہنچتا ہے یا نہیں ؟ جواب: عباداتِ بدنیہ مثل نماز و روزہ وغیرہ اموات کی طرف سے احادیث کے مطابق جائز نہیں ۔ کیا مردے سنتے ہیں ؟ سوال: کیا مردے سنتے ہیں یا نہیں ؟ اگر سنتے ہیں تو (( نم کنومۃ العروس )) والی حدیث کا کیا مطلب ہے؟ مرسلہ: مولوی ابو اسحاق عبد الله صاحب صدر مدرس مدرسہ شمسیہ، ویرووال مسجد اہل حدیث متصل تھانہ۔ ضلع امرتسر جواب: آیت: ﴿اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی﴾ اور آیت ﴿وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ﴾سے صریح طور پر ثابت ہوتا [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۶۰۷) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۷۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۲)