کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 474
مذکور دلیلِ رضا ہوگا اور ما نحن فیہ تو ہندہ کو نکاح کی خبر بتواتر پہنچ گئی تھی، جو دو ایک فضولی کی خبر سے کہیں بڑھ کر ہے تو اس صورت میں تو ہندہ کا سکوت بطریق اولیٰ دلیلِ رضا ہوگا۔ در مختار میں ہے: ’’فإن استأذنھا ھو أي الولی، وھو السنۃ، أو وکیلہ أو رسولہ، أو زوجھا ولیھا، وأخبرھا رسولہ أو فضولي عدل فسکتت عن ردہ مختارۃ أو ضحکت غیر مستھزئۃ أو تبسمت أو بکت بلا صوت، فلو بصوت، لم یکن إذنا ولا ردا حتی لو رضیت بعدہ انعقد۔ سراج وغیرہ۔ فما في الوقایۃ والملتقیٰ فیہ نظر، فھو إذن‘‘[1]انتھی [اگر ولی اس (عورت) سے (نکاح کی) اجازت طلب کرے اور سنت طریقہ یہی ہے، یا اس (ولی) کا وکیل یا اس کا ایلچی اجازت طلب کرے یا اس (عورت) کا ولی اس کا نکاح کر دے اور ولی کا ایلچی یا عادل فضولی اس (عورت) کو اس کی خبر دے تو وہ مختار ہونے کے باوجود اس کو رد کرنے سے خاموش رہے یا بغیر استہزا کے ہنسنے لگے یا تبسم کرے یا بغیر آواز کے رونے لگے تو یہ اجازت ہوگی نہ انکار۔ لیکن اگر وہ بعد میں راضی ہوجائے تو یہ نکاح منعقد ہوجائے گا۔ وقایہ اور ملتقی میں جو مذکور ہے، وہ محلِ نظر ہے، درحقیقت یہ اجازت تصور ہوگی] شامی (۲/ ۲۹۶ مصری) میں ہے: ’’قولہ: أو فضولي عدل۔ شرط في الفضولي العدالۃ أو العدد فیکفي إخبار واحد عدل أو مستورین عند أبي حنیفۃ‘‘ [اس کا یہ قول: یا عادل فضولی۔ فضولی میں عدالت یا عدد کی شرط لگائی گئی ہے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک عادل یا دو مستور افراد کا خبر دینا کافی ہے] اگر بالفرض زید وکیل منجانب پدر ہندہ نہ ہو، بلکہ فضولی قرار دیا جائے تو بھی بغیر تصریح اذن باللسان ہندہ کے یہ نکاح نافذ ہوگا۔ اس لیے کہ ہندہ کی رضا سے خلوتِ صحیحہ کا ہونا تصریحِ اذن سے بڑھ کر ہے۔ شامی (ص: ۳۰۱) میں ہے: ’’لأنہ إذا ثبت الرضا بالقول یثبت بالتمکین من الوطي بالأولیٰ، لأنہ أدل علی الرضا‘‘ اھ [ کیونکہ جب بول کر اجازت دینے سے رضا ثابت ہوجاتی ہے تو اپنے اوپر وطی کی قدرت دینے سے تو بالاولیٰ ثابت ہوجائے گی، اس لیے کہ یہ رضا کی زیادہ صراحت کرتا ہے] 2۔ انعقادِ نکاح کے وقت گواہوں کا ہونا، یعنی موجود رہنا کافی ہے، ان کا نام زد کرنا ضروری نہیں ہے۔ ہدایہ میں ہے: ’’ولا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاھدین۔۔۔ الخ‘‘[2] [مسلمانوں کا نکاح گواہوں کی موجودگی ہی میں منعقد ہوتا ہے۔۔۔ الخ] [1] الدر المختار مع رد المحتار (۳/ ۵۹) [2] الھدایۃ (۱/ ۱۹۰)