کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 472
بولایتِ عورت صحیح نہیں ہے۔ عورت کو نکاح میں ولایت حاصل نہیں ہے۔ مشکوۃ شریف (ص: ۲۶۳ چھاپہ احمدی دہلی) میں ہے: عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( لا تزوج المرأۃ المرأۃ، ولا تزوج المرأۃ نفسھا)) [1] الحدیث (رواہ ابن ماجہ) [ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت کسی عورت کا نکاح کرے نہ عورت خود اپنا نکاح کرے] جب نکاح مذکور صحیح نہ ہوا، پس ہندہ اب تک کسی کی زوجہ صحیحہ شرعیہ نہیں ہے تو اس کے اولیا کو اختیار ہے کہ اس کا نکاح کسی اچھے شخص سے برضا مندی ہندہ کے کر دیں ۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ولایتِ نکاح میں دوسرے کو وکیل بنانا: سوال: ہندہ بالغہ باکرہ کہ منسوب ایک سال سے تھی۔ ہندہ اور ہندہ کے باپ وغیرہ کو معلوم تھا کہ آج ہندہ کا نکاح ہے، لیکن ہندہ کا باپ چار کوس پر تھا۔ ہندہ کے باپ نے بکر کے نام خط لکھا، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں بیمار ہوں ، سواری ملتی نہیں ، پیادہ روی سے مجبور ہوں ۔ میں تو چاہتا تھا کہ تاریخ بڑھا دی جاتی، تاکہ میری بھی شرکت ہوتی، مگر جبکہ عورتوں نے تاریخ مقرر کر لی ہے، تو انجام ہی ہوجانا بہتر ہے، زید وہاں موجود ہے، بعوض ایک ہزار نکاح کر دے، لڑکی میری دانست میں بالغ ہے، اس سے بھی اجازت لے لیں اور احمد آرندہ خط کو بھی زبانی ہدایت ایسے ہی کر دی۔ زید ہندہ کے باپ کا صرف خط بھیجنا سننا تھا، بغیر اجازت بکر کے خط پڑھ کر اور احمد آرندہ خط کا زبانی بیان سن کر، بلا لیے ثبوت شہادت کے زید نے مبلغ ایک ہزار روپیہ جو مہر مثل سے نصف کے قریب ہے، ایک مجمع عام میں بلا نام زد کرنے نام دو گواہ کے ہندہ کا نکاح خالد سے کر دیا۔ زید یا پدر ہندہ نے خود ہندہ سے قبل نکاح اجازت نہیں لی اور نہ بعد نکاح خود زید یا کسی دوسرے شخص خاص نے ہندہ کو خبر نکاح کی دی، مگر جب نکاح ہوگیا۔ گھر باہر شور و غل مچل گیا کہ ہندہ کا نکاح ہوگیا، جس وقت تواتر سے نکاح کی خبر ہندہ کو پہنچی، ہندہ بہیتر [اندرونِ خانہ] میں تھی، ہندہ نے صریح لفظوں میں اقرار یا انکار نہ کیا اور خلوتِ صحیحہ بھی ہوگئی۔ ہندہ خالد سے راضی ہے اور ہندہ کے باپ کو بھی کوئی کلام نہیں ہے۔ ایسی صورت میں نکاح صحیح و نافذ ہوجائے گا یا تجدیدِ نکاح و صریح اقرارِ ہندہ کی ضرورت ہے؟ انتباہ: ما نحن فیہ میں امور خمسہ مفصلہ ذیل پر ضرور دلیل شافی ہونی چاہیے: 1۔ اس صورت میں زید و کیل من جانب پدر ہندہ قرار پائے گا یا نہیں ؟ خانیہ وغیرہ میں مصرح ہے کہ ولی نے اگر بلا اجازت اپنی لڑکی بالغہ کا نکاح پڑھا دیا تو یہ نکاح لڑکی کی رضا پر موقوف ہے۔ اگر بالغہ باکرہ ہے تو سکوت ہی [1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۸۸۲)