کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 458
الموجودۃ أعني صورۃ العقد بدون ولي لیست بشرعیۃ أو یتوجہ إلی الصحۃ التي ھي أقرب المجازین إلی الذات فیکون النکاح بغیر ولي باطلا کما ھو مصرح بذلک في حدیث عائشۃ المذکور، وکما یدل حدیث أبي ھریرۃ المذکور، لأن النھي یدل علی الفساد المرادف للبطلان، وقد ذھب إلی ھذا علي و عمر و ابن عباس و ابن عمر و ابن مسعود و أبو ھریرۃ و عائشۃ والحسن البصري وابن المسیب وابن شبرمۃ وابن أبي لیلیٰ والعترۃ وأحمد وإسحاق والشافعي و جمھور أھل العلم فقالوا: لا یصح العقد بدون ولي، وقال ابن المنذر: إنہ لا یعرف عن أحد من الصحابۃ خلاف ذلک‘‘[1] [آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ’’ولی (کی اجازت) کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہوتا‘‘ اس فرمان میں موجود نفی یا تو ذاتِ شرعیہ کی نفی ہے، کیونکہ ذات موجودہ، یعنی عقد کی صورت، ولی کے بغیر شرعی نہیں ہے، یا اس نفی کا تعلق صحت کے ساتھ ہے، جو ذات کی طرف اقرب المجازین ہے، تو اس بنا پر ولی کے بغیر نکاح باطل ہوگا، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی مذکورہ بالا روایت میں اس کی صراحت کی گئی ہے اور جس طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ حدیث دلالت کرتی ہے، کیونکہ نہی فساد پر دلالت کرتی ہے اور فساد بطلان کے مترادف ہے۔ چنانچہ علی، عمر، ابن عباس، ابن عمر، ابن مسعود، ابوہریرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم ، حسن بصری، ابن المسیب، ابن شبرمہ، ابن ابی لیلیٰ، عترہ، احمد، اسحاق، شافعی اور جمہور اہلِ علم رحمہم اللہ اسی طرف گئے ہیں ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ولی کے بغیر عقدِ (نکاح) صحیح اور درست نہیں ہے۔ ابن المنذر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے اس کے خلاف معروف و معلوم نہیں ہے] ولی اس نابالغہ کا اس کا سوتیلا بھائی ہے۔ نیل الاوطار میں ہے: ’’والمراد بالولي ھو الأقرب من العصبۃ من النسب ثم من السبب ثم من عصبتہ‘‘[2]اھ [ولی سے مراد وہ قریبی رشتے دار جو عصبہ نسبی میں سے ہو، پھر عصبہ سببی میں سے اور پھر اس کے عصبہ میں سے] سوال: ایک زن بیوہ نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح بحیثیتِ ولایت ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ برضا مندی والدین اس لڑکے کے پڑھا دیا اور لڑکی کو اس کے سسرال بھیج دیا۔ کچھ دنوں بعد وہ نابالغہ لڑکی اپنی ماں کے پاس چلی آئی، تو اس ماں نے بغیر ہونے طلاق کے اس نابالغہ لڑکی کا نکاح دوسرے بالغ آدمی سے پڑھوا دیا۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ پہلا نکاح از روئے شرع شریف جائز ہوا یا نہیں اور یہ دوسرا نکاح باوجود طلاق نہ ہونے کے جائز ہوا یا نہیں ؟ جواب: دونوں نکاحوں میں سے کوئی بھی از روئے شرع شریف کے بوجوہات ذیل جائز نہیں ہوا: [1] نیل الأوطار (۶/ ۱۷۸) [2] المصدر السابق۔