کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 453
خرابی) کی وجہ سے ناراض نہیں ، لیکن مجھے مسلمان ہوتے ہوئے (خاوند کی) ناشکری کرنا اچھا نہیں لگتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے اس کا باغ واپس دے دو گی؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت کو) حکم دیا کہ اس (اپنی بیوی) سے باغ واپس لے لیں اور اسے طلاق دے دیں ] وفي روایۃ عند ابن ماجہ: ’’فأمرہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أن یأخذ منھا حدیقتہ ولا یزداد‘‘[1] [ابن ماجہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ) کو حکم دیا کہ وہ اس (اپنی بیوی) سے باغ واپس لے لیں اور زائد کچھ نہ لیں ] وفي روایۃ النسائي والترمذي: ’’فأمرھا رسول اللّٰه صی اللّٰه علیہ وسلم أن تربص حیضۃ واحدۃ‘‘[2] [سنن النسائی اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (ثابت بن قیس کی بیوی کو) حکم دیا کہ وہ ایک حیض اپنے آپ کو انتظار میں رکھے] اگر اس طرح پر شوہر نہ راضی ہو تو زن و شوہر کے آدمی مل کر اس بارے میں حکم دیں ۔ الله سبحانہ فرماتا ہے، سورۂ نساء رکوع (۵) پارہ ’’والمحصنت‘‘ میں : ﴿وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا﴾ [النساء: ۳۵] [اگر ان دونوں کے درمیان مخالفت سے ڈرو تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو الله دونوں کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا] بدعتی اور مشرک خاوندکی موحد بیوی کیا کرے؟ سوال: ہندہ موحدہ ہے اور شوہر اس کا فاسق اور فاجر ہے، علاوہ اس کے بدعتی اور مشرک ہوگیا ہے، پس ہندہ کو طلاق دلوائی جائے یا کیا کیا جائے؟ جواب: اگر وہ کلمہ توحید لا الٰہ الا الله محمد رسول الله کا قائل ہے اور اپنے کو زمرۂ مومنین میں گنتا ہے تو نکاح فسخ نہیں ہوگا، اگرچہ کبائر یا ایسے فعل شنیعہ کا مرتکب ہو، جس کو علماے مدققین شرک بتاتے ہوں ، اس کا حساب خدا کے یہاں ہوگا، چنانچہ شرح مواقف (ص: ۷۲۶ نول کشوری) میں ہے: ’’المقصد الخامس في أن المخالف من أھل الحق ھل یکفر أم لا؟ جمھور المتکلمین والفقھاء علی أنہ لا یکفر أحد من أھل القبلۃ، الخ‘‘ [پانچواں مقصد اس بارے میں ہے کہ کیا اہلِ حق سے مخالفت رکھنے والے کو کافر کہا جائے گا یا نہیں ؟ جمہور [1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۰۵۶) [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۱۸۵) سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۴۹۷)