کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 45
[دوسرے شخص کی بات صحیح ہے، جب کہ پہلے آدمی کی بات صحت و صواب سے نہایت بعید ہے۔ و اللّٰه أعلم بالصواب] کتبہ: محمد عبد اللّٰه حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی نذر: سوال: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی نذر شرک ہے یا نہیں ؟ جواب: اس سے کیا مراد ہے؟ اگر کچھ خیرات کر کے ان کو ثواب پہنچانا ہے تو شرک نہیں ہے اور اگر ان کو معبود سمجھ کے کوئی فعل کرے اور خدا کا شریک ٹھہرائے تو شرک ہے۔ و اللّٰه أعلم ایک شرکیہ وظیفہ: سوال: عامل اس کلام کا "أجیبوا أو توکلوا أیھا الوسواس الخناس لقلب کذا وکذا، بالمحبۃ والمودۃ، وعطفوا قلبہ علي"[اے وسواسِ خناس! فلاں فلاں کی محبت و مودت کی فرمایش پوری کرو یا اس کے ضامن بن جاؤ اور اس کا دل میری طرف مائل کر دو] بایں طور کے واسطے محبت یا کسی اور امر کے عمل میں رکھے اور قبل اس کلام کے تین سو بار سورہ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ پڑھے اور ہر سیکڑے کے بعد اس کلام کا اعادہ کرے۔ ﷲ فرمائیے کہ عامل اس کا مومن رہا یا داخل گروہِ مشرکین ہوا؟ بینوا تؤجروا! جواب: جو کلام کہ سوال میں مذکور ہے، یعنی "أجیبوا وتوکلوا أیھا الوسواس الخناس۔۔۔"ناجائز کلام ہے اور ایسے کلام کا عامل سخت گنہگار ہے۔ اس لیے کہ اس کلام میں ارواحِ خبیثہ سے دعا اور ندا و استمداد اور حاجت روائی چاہی گئی ہے اور یہ بات اصولِ اسلام کے خلاف ہے۔ اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ سوائے الله تبارک و تعالیٰ کے اور کسی سے اس طور سے استمداد جائز نہیں ہے۔ ترمذی شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: (( وإذا استعنت فاستعن باللّٰه ))[1] یعنی اور جب تو مدد چاہے تو الله سے مدد چاہ۔ الله تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں اپنے بندوں کو اس طرح کہنا تعلیم فرمایا: ﴿ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ﴾ [الفاتحۃ: ۴] یعنی ہم تجھی کو پوجتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں ۔ و اللّٰه أعلم بالصواب کتبہ: محمد عبد اللّٰه (مہر مدرسہ) مجلسِ میلاد کا شرعی حکم: سوال: مجلسِ میلاد کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: مجلسِ میلاد کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خود اس مجلس کو کبھی کیا اور نہ امت کو اس کے کرنے کی کبھی ہدایت فرمائی اور نہ یہی ہوا کہ آپ کے عہدِ مبارک میں صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کیا اور آپ نے اس کو بحال رکھا، پھر اس مجلس کے جواز کی کیا صورت ہے؟ ہاں اگر آپ کے بعد کوئی اور نبی آیا ہوتا اور اس نے اس [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۵۱۶)