کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 419
زید کے محل ثانی سے لڑکی پیدا ہوئی تو فرمائیے کہ زید کے ناتنی اور زید کے محل ثانی سے جو بیٹی ہے، دونوں میں نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا! جواب: زید کے ناتنی اور زید کے محل ثانی سے جو لڑکی ہے، دونوں میں نکاح جائز نہیں ہے، اس لیے کہ زید کے محل ثانی سے جو بیٹی ہے، وہ زید کے ناتنی کی خالہ علاتیہ ہے اور خالہ سے نکاح جائز نہیں ہے۔ خواہ خالہ عینیہ ہو یا علاتیہ یا اخیافیہ۔ ہدایہ (۱/ ۲۸۷ چھاپہ مصطفائی) میں ہے: ’’قال: لا یحل للرجل أن یتزوج بأمہ۔۔۔ إلی أن قال: ولا بخالتہ، لأن حرمتھن منصوص علیھا في ھذہ الآیۃ، وتدخل فیھا العمات المتفرقات والخالات المتفرقات، وبنات الإخوۃ المتفرقین، لأن جھۃ الاسم عامۃ‘‘ انتھی، و اللّٰه أعلم بالصواب [انھوں نے کہا: آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی ماں سے نکاح کرے۔۔۔ نہ اپنی خالہ کے ساتھ، کیونکہ ان کی حرمت اس آیت:﴿حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ۔۔۔الخ﴾ میں منصوص علیہا ہے اور ان میں متفرق پھوپھیاں ، متفرق خالائیں اور متفرق بھتیجیاں بھی داخل ہیں ، کیونکہ (ان کے) اسم کی جہت عام ہے] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (مہر مدرسہ) تاریخ ۲؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۰ھ۔ المجیب مصیب۔ أبو محمد إبراہیم۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: أبو العلیٰ محمد عبدالرحمن المبارکفوري۔ الجواب صحیح علی اصغر۔ الجواب صحیح۔ محمد حسن بصري۔ ہم زلف کی لڑکی سے نکاح کا حکم: سوال: اگر کسی شخص نے اپنے حقیقی ساڑھو [ہم زلف] کی لڑکی سے نکاح کیا تو جائز ہے یا نہیں اور کون کون عورت حرام ہیں ؟ جواب: جس شخص نے اپنے حقیقی ساڑھو کی لڑکی سے نکاح کیا، اگر وہ لڑکی اس شخص کی زوجہ کی بہن کے بطن سے ہو اور اس کی زوجہ، جو اس لڑکی کی خالہ ہے، بوقت اس نکاح کے اس شخص کے تحت نکاح یا عدت میں رہی ہو تو نکاح مذکور ناجائز ہے اور اگر وہ لڑکی اس شخص کی زوجہ کی بہن کے بطن سے نہ ہو، بلکہ ا س کے ساڑھو کی کوئی دوسری زوجہ ہو اور وہ لڑکی اسی دوسری زوجہ کے بطن سے ہو یا وہ لڑکی اسی شخص کی زوجہ کی بہن ہی کے بطن سے ہو، لیکن اس شخص کی زوجہ جو اس لڑکی کی خالہ ہے، بوقت اس نکاح کے اس شخص کے نکاح یا عدت میں نہ رہی ہو، یعنی اس نکاح کے پہلے ہی مر چکی ہو یا طلاق پا کر عدت گزر گئی ہو تو ان سب صورتوں میں نکاح مذکور جائز ہے۔ عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( لا یجمع بین المرأۃ وعمتھا ولا بین المرأۃ وخالتھا )) [1] (متفق علیہ، مشکوۃ شریف، مطبوعہ انصاري دہلي، ص: ۲۶۵) [ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اور اس کی پھوپھی نیز عورت اور اس [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۸۲۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۰۸)