کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 416
بہنوئی کی پہلی بیوی کی بیٹی سے نکاح کرنا: سوال: زید نے بکر کی ہمشیرہ سے نکاح کیا، ایک لڑکی زید کو زوجہ اولیٰ سے ہے، اس سے اگر بکر نکاح کرنا چاہے تو درست ہوگا؟ جواب: بکر کا نکاح زید کی اس لڑکی سے جو ہمشیرۂ بکر کے بطن سے نہیں ہے، بلکہ زید کی اور بی بی سے ہے، درست ہے، اس لیے کہ محرمات یعنی جن عورتوں سے کہ نکاح ناجائز ہے، ان کی تفصیل الله سبحانہ وتعالیٰ نے سورۃ نسا رکوع (۳ و ۴) میں فرما کر فرما دیا ہے:﴿اُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ﴾ [النساء: ۲۴] یعنی ان مذکورہ بالا عورتوں کے سوا اور سب عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئیں ۔ زید کی مذکورہ بالا لڑکی بکر کے حق میں ان محرمات عورتوں میں سے نہیں ہے، لہٰذا بکر کا نکاح اس سے درست ہے۔ والد کے چچا کی بیٹی سے نکاح کرنا: سوال: زید اپنے بیٹے عمرو کا نکاح اپنے سگے چچا کی لڑکی سے کرانا چاہتا ہے، کیا جائز ہوگا؟ جواب: زید جو اپنے بیٹے کا نکاح اپنے سگے چچا کی بیٹی سے کرانا چاہتا ہے، یہ نکاح بلاشبہ جائز ہے، اس کے ناجائز ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے، بلکہ لڑکی مذکورہ زید کے لڑکے کے حق میں ﴿مَاوَرَائَ ذٰلِکُمْ[1]میں داخل ہے، جو قطعاً حلال ہے۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ بھانجی سے نکاح کرنے کا حکم: سوال: زید اپنے سوتیلے بھانجے کی پوتی سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ آیا یہ نکاح شرعاً جائز ہے یا کہ حرام؟ مراد سوتیلے بھانجے سے یہ ہے کہ بھانجہ مذکور زید کی علاتی بہن کا بیٹا ہے۔ (مقصود علی از نگینہ) جواب: نکاح مذکور، یعنی نکاح زید کا اپنے سوتیلے بھانجے کی پوتی سے قطعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لیے کہ الله تعالیٰ نے فہرستِ محرمات میں بنات الاخت کو بھی داخل فرمایا ہے اور اخت میں کوئی قید نہیں لگائی ہے، پس لفظ اخت تینوں قسم کی اخت (عینی، علاتی، اخیافی) کو شامل ہے اور بنات میں بھی کوئی قید نہیں لگائی ہے، پس لفظ بنات بھی بنات صلبی و غیر صلبی دونوں کو شامل ہے، پس معنی بنات الاخت کے یہ ہوئے کہ اخت (عینی ہو یا علاتی یا اخیافی) کی بنات (صلبی ہوں خواہ غیر صلبی) بھی تم پر حرام کی گئی ہیں اور زید کے سوتیلے بھانجے کی پوتی زید کی اخت علاتی کی بنات غیر صلبی میں قطعاً داخل ہے، پس وہ بھی قطعاً زید پر حرام ہے۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۳؍ صفر ۱۳۳۰ھ) فی دہلی حقیقی بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم: سوال: بھانجی کی حرمت تو صاف ہے، یعنی بھانجی سے نکاح نہیں کر سکتا۔ آیا حقیقی بھانجی کی بیٹی سے نکاح درست ہے یا نہیں ؟ [1] یعنی اس قرآنی آیت: ﴿وَ اُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ﴾ [النساء: ۲۴] کے تحت حلال ہے۔