کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 407
اس لیے بھی ہر شخص کو بشرطِ استطاعت نکاح کرنا ضروری ثابت ہوتا ہے۔ آپ کی ازواجِ مطہرات میں جو تمام مسلمانوں کی ماں ہیں ، بجز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کون ہیں ، جن کا دو یا تین نکاح نہ ہو چکا تھا؟ عقدِ ثانی قولاً و فعلاً ثابت ہے، سلفاً اور خلفاً معمول بہ رہا ہے۔ اس سے انحراف سراسر غلطی ہے۔ نکاح بوقتِ تیزی خواہش کے واجب ہے اور بوقتِ تیقنِ زنا فرض اور حالتِ اعتدال میں سنتِ موکدہ اور بوقتِ خوفِ جور مکروہ۔ ’’ویکون واجبا عند التوقان فإن تیقن الزنا إلا بہ فرض (نھایہ) وھذا إن ملک المھر والنفقۃ، ویکون سنۃ مؤکدۃ في الأصح فیأثم بترکہ حال الاعتدال ومکروھا لخوف الجور‘‘[1](من الدر المختار ملتقطا) [غلبہ شہوت کے وقت یہ (نکاح) واجب ہوگا، پھر اگر اسے زنا کے سرزد ہونے کا یقین ہوجائے تو فرض ہے اور یہ اس وقت ہے، جب وہ مہر (کی رقم) اور نان و نفقہ (چلانے) کا مالک ہوجائے، جب کہ صحیح موقف یہ ہے کہ وہ اس صورت میں سنتِ موکدہ ہے اور حالتِ اعتدال (وطی، مہر اور نان و نفقہ کی قدرت) میں اس کو ترک کرنے والا گناہ گار ہوگا۔ اگر اسے جور کا ڈر اور خوف ہو تو مکروہ ہے] اب خیال کرنا چاہیے کہ اکثر لوگوں پر فرض یا واجب یا سنت موکدہ ہے، کمتر لوگ ہوں گے، جن کے لیے مکروہ ہوگا۔ فقط کتبہ: محمد عین الحق۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ سوال: بیوگان کا نکاح کرنا کیسا ہے اور لفظ ’’أیامی‘‘ کا جو قرآن مجید میں آیا ہے، اس کے کیا معنی ہیں ؟ مطلقاً نکاح فرض ہے یا سنت یا مستحب؟ بینوا توجروا! جواب: الحمد للّٰه رب العالمین، و الصلاۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد خاتم النبیین شفیع المذنبین، وعلیٰ آلہ وأصحابہ وأھل بیتہ أجمعین أما بعد! الله تعالیٰ سورہ نور رکوع (۴) میں فرماتا ہے:﴿وَاَنْکِحُوْا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ﴾ (النور: ۳۲) [اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دو] ’’أَیَامٰی‘‘ ’’أَیِّمٌ‘‘ کی جمع ہے۔ ’’أیِّم‘‘ کے اصلی معنی بے شوہر والی عورت کے ہیں ، کنواری ہو خواہ شوہر مر گیا ہو یا طلاق دے دی ہو اور بے جورو والے مرد کو بھی اَیّم کہتے ہیں ، لیکن یہ معنی مجازی ہیں اور مجازی معنی مراد لینے کے لیے کوئی قرینہ ضروری ہے اور جہاں قرینہ نہ ہو وہاں مجازی معنی نہیں مراد لیے جاتے۔ آیتِ کریمہ میں ظاہراً کوئی قرینہ نہیں ہے، لہٰذا یہاں ظاہر ہے کہ اصلی معنی (بے شوہر والی عورتیں ) مراد ہیں ۔ تفسیر کبیر (ص: ۳۸۳ چھاپہ مصر) میں ہے: ’’لفظ الأیامیٰ وإن تناول الرجل والنساء، فإذا أطلق لم یتناول إلا النساء، وإنما یتناول الرجال إذا قید ۔۔۔ الخ‘‘[2] [1] الدر المختار مع رد المحتار (۳/ ۷) [2] تفسیر الرازي (۲۳/ ۳۷۶)