کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 405
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انھوں نے اس موقف سے رجوع کر لیا۔ چنانچہ انھوں نے کہا کہ اسے مہر ملے گا اور پھر اگر وہ چاہیں تو دوبارہ (نکاح کے ذریعے) اکٹھے ہو سکتے ہیں ۔ رہا علی رضی اللہ عنہ کا قول تو اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے زاذان کے واسطے سے ان سے روایت کیا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں یہ فیصلہ کیا، جس نے اپنی عدت میں نکاح کر لیا کہ ان دونوں میں جدائی کروائی جائے، اس عورت کو (دوسرے خاوند سے) مہر ملے گا، کیونکہ اس نے اس کی عصمت کو اپنے لیے حلال کیا، پھر وہ پہلے خاوند کی باقی ماندہ عدت پوری کرے، پھر دوسرے خاوند کی عدت گزارے۔ امام دارقطنی اور بیہقی نے ابنِ جریج سے حدیث روایت کی ہے، انھوں نے عطا سے اور عطا نے علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے] صحیح بخاری (۳/ ۲۳۴ چھاپہ مصر) میں ہے: ’’وقال إبراھیم فیمن تزوج في العدۃ فحاضت عندہ ثلاث حیض: بانت من الأول، ولا یحتسب بہ لمن بعدہ، وقال الزھري: تحتسب، وھذا أحب إلی سفیان یعني قول الزھري‘‘ اھ [ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا جس نے عدت ہی میں نکاح کر لیا پھر اسے تین حیض آئے کہ وہ پہلے سے جدا ہو گئی اور پھر وہ دوسرے نکاح کی عدت کا شمار اس میں نہیں ہوگا، لیکن زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں دوسرے نکاح کی عدت کا شمار ہوگا، یہی، یعنی زہری کا قول سفیان کو زیادہ پسند ہے] قسطلانی شرح صحیح بخاری میں ہے: ’’وروی المدنیون عن مالک: إن کانت حاضت حیضۃ أو حیضتین من الأول أنھا تتم بقیۃ عدتھا منہ، ثم تستأنف عدۃ أخریٰ، وھو قول الشافعي وأحمد‘‘[1] اھ [مدینہ والوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، اگر اسے پہلے خاوند کی عدت سے ایک یا دو حیض آچکے تو وہ پہلے اول شوہر کی باقی ماندہ عدت پوری کرے، بعد میں دوسرے خاوند کی عدت گزارے۔ یہ امام شافعی اور احمد رحمہما اللہ کا قول ہے] ہدایہ اولین (ص: ۴۰۵ چھاپہ مصطفائی) میں ہے: ’’وإذا وطیت المعتدۃ بشبھۃ فعلیھا عدۃ أخری، وتداخلت العدتان، ویکون ما تراہ المرأۃ من الحیض محتسبا منھما، وإذا انقضت العدۃ الأولیٰ، ولم تکمل الثانیۃ، فعلیھا إتمام العدۃ الثانیۃ، وھذا عندنا، وقال الشافعي: لا تتداخلان‘‘ اھ [1] إرشاد الساري لشرح صحیح البخاري (۸/ ۱۸۲)