کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 390
عن الحج عن أبیہ، قال: (( احجج عنہ، ألا تری أنہ لو کان علیہ دین فقضیتہ عنہ أن ذلک یجزیٔ عنہ؟ )) قال: بلیٰ۔ قال: (( فحق اللّٰه أحق )) [1] ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کی طرف سے حج کرنے کو پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی طرف سے حج کر دے، تو یہ تو بتا کہ اگر تیرے باپ پر دین ہوتا اور تو اس دین کو اپنے باپ کی طرف سے ادا کر دیتا تو وہ دین تیرے باپ کی طرف سے ادا ہوجاتا؟ عرض کیا: کیوں نہیں ، فرمایا: تو الله کا حق تو اس سے بھی زیادہ اَحق ہے۔‘‘ ان دونوں حدیثوں سے علاوہ جائز اور مشروع ثابت ہونے کے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس شخص کے ذمہ حج فرض ہو ، اس کی طرف سے حج بدل کر دینے سے وہ حج فرض اس کے ذمہ سے ساقط بھی ہوجاتا ہے، جس طرح دین کہ مدیون کی طرف سے ادا کرنے سے اس کے ذمہ سے ساقط ہوجاتا ہے اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سائلین سے استفصال نہ فرمانا (یعنی یہ نہ پوچھنا کہ جس میت کی نسبت سوال کر رہے ہو، اس نے حج کی وصیت بھی کی تھی یا نہیں ؟) اس بات پر دلیل ہے کہ حکم دونوں صورتوں میں یکساں ہے، یعنی خواہ میت نے وصیت کی ہو یا نہیں کی ہو، دونوں حالتوں میں اس کی طرف سے حجِ بدل کرنا جائز و مشروع ہے، کیونکہ اگر حکم مختلف ہوتا تو آپ ضرور استفصال فرماتے اور بغیر استفصال فرمائے ایک حکم ارشاد نہ فرماتے۔ وقال في الھدایۃ في باب الحج عن الغیر: ’’العبادات أنواع، مالیۃ محضۃ کالزکاۃ، وبدنیۃ محضۃ کالصلاۃ، ومرکبۃ منھما کالحج، والنیابۃ تجري في النوع الثالث عند العجز، و لا تجري عند القدرۃ، ثم ظاھر المذھب أن الحج یقع عن محجوج عنہ، وبذلک تشھد الأخبار الواردۃ في ھذا الباب کحدیث الخثعمیۃ فإنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم قال فیہ: حجي عن أبیک‘‘[2] انتھی بقدر الحاجۃ [دوسروں کی طرف سے حج کرنے کے باب میں ہدایۃ کے مصنف نے کہا کہ عبادات کی چند قسمیں ہیں : ایک وہ جو خالص مالی عبادت ہے، جیسے زکات، ایک وہ جو محض بدنی عبادت ہے، جیسے نماز اور ایک وہ جو ان دونوں سے مرکب ہے، جیسے حج۔ عبادت کی اس تیسری قسم میں عاجزی آجانے کی صورت میں نیابت چلتی ہے اور قدرت کے وقت نیابت جاری نہیں ہوتی، پھر ظاہر مذہب یہ ہے کہ حج اس کی طرف سے واقع ہوجاتا ہے، جس کی طرف سے کیا جائے۔ اس باب میں وارد شدہ روایات اس کی گواہی دیتی ہیں ، جیسے خثعمیہ کی حدیث ہے کہ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں فرمایا ہے کہ اپنے باپ کی طرف سے حج کرو] [1] سنن الدارقطني (۲/ ۲۶۰) [2] الھدایۃ (۱/ ۱۸۳)