کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 388
قال: أخ لي أو قریب لي، فقال: (( حججت عن نفسک؟ )) قال: لا، قال: (( حج عن نفسک، ثم حج عن شبرمۃ )) [1] (رواہ أبو داود وابن ماجہ، و صححہ ابن حبان، والراجح عند أحمد وقفہ، بلوغ المرام) [عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بلاشبہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یوں کہتے ہوئے سنا: شبرمہ کی طرف سے لبیک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شبرمہ کون ہے؟‘‘ اس نے کہا:میرا بھائی یا میرا قریبی رشتے دار ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم نے (پہلے) اپنی طرف سے حج کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پہلے) اپنی طرف سے حج کر، پھر (بعد میں ) شبرمہ کی طرف سے حج کرنا] واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۶؍ رجب ۱۳۳۲ھ) میت کی طرف سے حجِ بدل کرنا: سوال: 1۔زید متمول و مالدار و مستطیع تھا۔ چالیس پچاس برس یا چند سال حالت مالداری و استطاعت میں بعیش و آرام بسر کیا اور بہت کچھ سرمایہ چھوڑ کر بلا وصیت مر گیا تو حجِ بدل، یعنی بالنیابۃ حج کرانا اس کی طرف سے جائز و محکوم شرع ہے یا منہی عنہ اور فرض جو اس پر تھا، ساقط ہوگا یا نہیں ؟ 2۔ بکر جس پر حالتِ پیرانہ سالی میں جو استطاعت طی مسافت کی نہیں رکھتا تھا یا کسی عذر سے معذور تھا، یعنی مریض تھا یا اندھا و لنگڑا وغیر وغیرہ حج فرض ہوا، یعنی مالدار ہوا، مگر بسبب عجز و ناچاری کے حج نہ کر سکا اور مر گیا تو اس کی جانب سے حج جائز و مشروع ہے یا نہیں اور فرضیت اس کے ذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں ؟ 3۔ کسی نے حج کی نذر کیا اور بلا عجز و عذر مدت تک عیش و آرام سے بسر کیا اور کسی نے حج کی نذر کیا اور فوراً مر گیا، دونوں کا حکم مساوی ہے یا مختلف؟ 4۔ حج فرض بالنذر و حج فرض بالاستطاعت کی ایک شان ہے اور دونوں متحد الاحکام ہیں یا مختلف الاحکام؟ بینوا بالتفصیل۔ جواب: 1۔اس صورت میں حجِ بدل، یعنی بالنیابۃ حج کرانا زید کی طرف سے جائز و محکوم شرع شریف ہے، منہی عنہ نہیں [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۸۱۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۹۰۳) صحیح ابن خزیمۃ (۴/ ۴/ ۳۴۵) صحیح ابن حبان (۹/ ۲۹۹) امام ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’والرافعون ثقات، فلا یضرھم وقف الواقفین لہ، إما لأنھم حفظوا مالم یحفظوا، وإما لأن الواقفین رووا عن ابن عباس رأیہ، و الرافعین رووا عنہ روایتہ‘‘ (بیان الوھم والإیھام: ۵/ ۴۵۲) نیز امام ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’وقد أعلہ الطحاوي بالوقف، والدارقطني بالإرسال، وابن المغلس الظاھري بالتدلیس، وابن الجوزي بالضعف، وغیرھم بالاضطراب والانقطاع، وقد زال ذلک کلہ بما أوضحناہ في الأصل‘‘ (خلاصۃ البدر المنیر: ۱/ ۳۴۵) نیز دیکھیں : البدر المنیر (۶/ ۴۵) التلخیص الحبیر (۲/ ۴۸۸) إرواء الغلیل (۴/ ۱۷۱)