کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 386
کتاب الحج ہندوستان کے حجاج کہاں سے احرام باندھیں ؟ سوال: جو لوگ ہندوستان سے حج کے ارادے سے جاتے ہیں ، وہ لوگ احرام یلملم سے باندھیں یا جدہ سے اور ان لوگوں کو جدہ سے احرام باندھنا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟ جواب: یہ احرام سنتِ نبویہ (علی صاحبہا وآلہ الصلوات والتسلیمات) میں درست نہیں ہوسکتا، اگر زید اور دیگر حجاج یمن کے راستے سے گزرے ہوں ۔ فقد رویٰ ابن أبي شیبۃ في مصنفہ عن ابن عباس أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال: (( لا تجاوزوا الوقت إلا بالإحرام)) [1] اھ(نصب الرایۃ في تخریج أحادیث الھدایۃ) و اللّٰه تعالیٰ أعلم [ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ یقینا نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احرام باندھے بغیر میقات سے آگے نہ بڑھو] کتبہ: محمد عبد اللّٰه یہ جواب بہت صریح و درست ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے مواقیت احرام کے لیے تصریح کے ساتھ مقرر فرمائے۔ پس جو شخص حج و عمرہ کی نیت سے سفر کرے، ان کے لیے ضروری ہے کہ مواقیتِ مذکورہ پر احرام باندھے، ورنہ احرام صحیح و درست نہ ہوگا۔ جو چاہے فتح الباری وغیرہ میں دیکھ لے۔ کتبہ: محمد عبدالجبار عمر پوری دوسرے کے مال سے اور زمین بیچ کر حج کرنا: سوال: 1۔ زید اپنے بڑھاپے میں عمرو کو ساتھ لے کر حج کرنے گیا اور یہ خیال تھا کہ عمرو کی وجہ سے سفر میں آرام ہوگا اور عمرو کو اپنے خرچ سے لے گیا۔ اب عمرو اس وقت ذی مقدرت ہے۔ آیا حج دوبارہ ادائے فرض کے لیے عمرو کو کرنا ہوگا یا پہلا حج ادائے فرض کے لیے کافی ہوگا؟ 2۔ خالد کے پاس دس بیگہ زمین ہے اور زمین کی قیمت فی بیگہ سو روپیہ ہے، مگر نقود نہیں ہیں ۔ زمین بیچ کر حج کرنے جا سکتا ہے یا نہیں ؟ راقم: محمد علی ابو المعالی از اسلام پور جواب: 1۔پہلا حج ادائے فرض کے لیے کافی ہوگا، کیونکہ زید جب عمرو کے خرچ سفرِ حج کا متحمل ہوگیا تو عمرو مستطیع [1] المعجم الکبیر للطبراني (۱۱/ ۴۳۵) اس کی سند میں ’’خصیف بن عبد الرحمن الجزري‘‘ ضعیف ہے۔ دیکھیں : السلسلۃ الضعیفۃ (۴۷۷۴)