کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 375
ہے کہ اس کو روزے کی قضا کے ساتھ ساتھ اس کا کفارہ بھی دینا ہوگا، چنانچہ انھوں نے کھانے پینے کو جماع کے ساتھ تشبیہ دی ہے، یہ موقف سفیان ثوری، عبد الله بن مبارک اور اسحاق رحمہم اللہ کا ہے۔ بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ اس پر روزے کی قضا ہے، کفارہ نہیں ہے، کیونکہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف جماع کی صورت میں کفارے کو روایت کیا گیا ہے، کھانے پینے کے بارے میں نہیں ، چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ کھانا پینا جماع کے مشابہ نہیں ہے، یہ قول امام شافعی اور احمد رحمہما اللہ کا ہے] مگر جو لوگ اس صورت میں کفارہ واجب کہتے ہیں ، ان کے پاس کوئی کافی ثبوت نہیں ہے اور جو دلائل وجوبِ کفارہ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان سے احتجاج صحیح نہیں ۔ وجوبِ کفارہ پر دارقطنی کی یہ ایک روایت پیش کی جاتی ہے: ’’عن أبي ھریرۃ أن رجلا أکل في رمضان فأمرہ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أن یعتق رقبۃ أو یصوم شھرین أو یطعم ستین مسکینا‘‘[1] [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ کھا لیا (اور روزہ توڑ دیا) تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک گردن (غلام، لونڈی) آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے] مگر یہ روایت ضعیف ہے، اس کا ایک راوی ابو معشر قوی نہیں ہے، چنانچہ خود دارقطنی اس حدیث کے بعد ہیں : ’’أبو معشر ھو نجیح، لیس بالقوي‘‘ [ابو معشر نجیح قوی نہیں ہے] مولانا عبد الحی صاحب مرحوم ’’التعلیق الممجد‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’والأحسن في الاستدلال ما أخرجہ الدارقطني من طریق محمد بن کعب عن أبي ھریرۃ أن رجلا أکل في رمضان فأمرہ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أن یعتق رقبۃ۔ الحدیث، لکن إسنادہ ضعیف، لضعف أبي معشر، راویہ عن ابن کعب‘‘[2] انتھی [اس سلسلے میں استدلال کے لیے بہتر دلیل وہ ہے، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے محمد بن کعب کے واسطے سے بیان کیا ہے، وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گردن (غلام، لونڈی) آزاد کرنے کا حکم دیا۔۔۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ محمد بن کعب سے روایت کرنے والا راوی ابو معشر ضعیف ہے] وجوبِ کفارہ پر ایک یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے، جو ہدایہ (ص: ۱۲۳ مطبوعہ علوی) میں مذکور ہے: (( من أفطر في رمضان فعلیہ ما علیٰ المظاھر )) [جس نے رمضان کا کوئی روزہ توڑا تو اس پر ظہار کرنے والے آدمی جیسا کفارہ ہے] مگر اس حدیث کا پتا اس لفظ کے ساتھ ہدایہ کے مخرجین کو نہیں لگا ہے، چنانچہ زیلعی فرماتے ہیں : ’’قلت: [1] سنن الدارقطني (۲/ ۱۹۱) نیز دیکھیں : نصب الرایۃ (۲/ ۳۲۸) [2] التعلیق الممجد (۲/ ۱۶۱)