کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 373
فدیے کی مشقت گورا کریں کہ فی روزہ ایک مسکین کو کھانا دے دیا کریں اور فدیے کی مشقت نفوس پر روزے کی مشقت سے کچھ کم نہیں ہے۔ إِلَّا مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ﴾ [النساء: ۱۲۸] یعنی شدتِ بخل تو گویا نفوس کی فطرت ہی میں داخل ہے، چنانچہ اسی کے مطابق ایک مثل بھی مشہور ہے: ’’گر جاں طلبی مضائقہ نیست ور زر طلبی سخن ور نیست‘‘ [اگر تم جاں طلب کرو تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر تم مال طلب کرو تو اس کی گنجایش نہیں ہے] یہی وجہ ہے کہ اگر روزے دار تلاش کیے جائیں تو بہت مل سکیں گے اور زکاۃ دینے والے تلاش کیے جائیں تو بہت کم ملیں گے اور فدیہ کی مشقت گوارا کرنے کی صورت میں اگرچہ بجائے ایک مسکین کے بہت سے مساکین کو کھانا کیوں نہ دے دیا کریں ، مگر روزے کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکیں گے، جس کی طرف آیتِ کریمہ:﴿وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ ان کا کتنا بڑا گھاٹا ہے۔ گو اس صورت میں ترکِ فرض کے مواخذہ سے بَری ہوجائیں گے۔ الغرض قسم ثانی کے اشخاص پر تنگی کا حال معلوم ہوا کہ ان کو عین حالتِ مرض یا سفر میں بطورِ واجب مخیر کے دو امروں میں سے ایک امر کی مشقت اٹھانے سے چارہ نہیں ہے بخلاف قسمِ اول کے اشخاص کے کہ ان پر یہ تنگی ہرگز نہیں ہے کہ عین حالتِ مرض یا سفر میں روزہ یا فدیہ میں سے کسی ایک کی مشقت ضرور اپنے اوپر گوارا کریں ، بلکہ ان پر طرح طرح سے آسانیوں کی رعایت کی گئی ہے، جن میں سے ایک آسانی ان پر یہ کی گئی ہے کہ اگر وہ لوگ خواہ مخواہ اپنے اوپر سختی گوارا کر کے عین حالتِ مرض یا سفر میں روزہ ہی رکھ لیں تو ان کی یہ سختی، جو انھوں نے خواہ مخواہ اپنے اوپر گوارہ کر لی ہے، قبول بھی نہیں کی جائے گی، کیونکہ ان کی یہ سختی نیکی کے زمرے سے خارج کر کے بدی اور گناہ کے زمرہ میں داخل کر دی گئی ہے۔ چنانچہ فرما دیا گیا: (( لیس من البر الصوم في السفر )) اور (( أولئک العصاۃ أولئک العصاۃ )) [1] اور (( الصائم في السفر کالمفطر في الحضر )) دوسری آسانی ان پر یہ کی گئی ہے کہ جب وہ لوگ صحیح اور مقیم ہوجائیں تو روزے کی قضا کا وجوب ان پر فوری نہیں رکھا گیا، بلکہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ ایامِ صحت وا قامت میں جب چاہیں قضا رکھ لیں ۔ تیسری آسانی ان پر یہ کی گئی ہے کہ اگر وہ لوگ صحت اور اقامت کے ایام نہ پائیں ، بلکہ مرض یا سفر ہی کی حالت میں مرجائیں تو ان پر کوئی مواخذہ نہیں ، نہ روزے کا اور نہ فدیے کا۔ یہ سب کیسی کیسی ان پر آسانیاں ہیں ؟ الله تعالیٰ نے اسی طرح کی آسانیوں کی طرف کس خوبی سے اس آیتِ کریمہ میں اشارہ فرما دیا:﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ﴾ [البقرۃ: ۱۸۵] یعنی الله تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر سختی نہیں چاہتا۔ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۱۴)