کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 369
میں ان پر فدیہ واجب ہے۔ روزہ رکھنا اچھا ہے:﴿اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ﴾ ہاں نسخ کا دعویٰ مرفوع نہیں ، بلکہ موقوف ہے، جس کو ’’لا‘‘ مقدر یا ہمزہ سلب کہنے والوں نے بھی گویا تسلیم نہیں کیا۔ پس اگر میں بھی اس کا قائل نہ ہوں تو غالباً کسی بڑے ناقابلِ معافی جرم کا مرتکب نہیں ہوں گا۔[1] جواب: روزہ رمضان کا بیان سورہ بقرہ رکوع (۲۳) کی پہلی آیت سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے الله تعالیٰ نے کل مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا:﴿کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ﴾ اس میں کسی کو نہ خلاف ہے نہ ہوسکتا ہے کہ﴿کُتِبَ﴾ یہاں ’’فُرِضَ‘‘ کے معنی میں ہے۔ پس معنی یہ ہوئے کہ تم کل مسلمانوں پر روزہ فرض کیا گیا۔ پھر فرمایا:﴿اَیَّاماً مَّعْدُوْدَاتٍ﴾ یعنی روزہ جو تم کل مسلمانوں پر فرض کیا گیا، صرف گنتی کے چند روز فرض کیا گیا۔ پھر فرمایا: وہ گنتی کے چند روز کیا ہیں :﴿شَھْرُ رَمَضَانَ﴾ یعنی ماہِ رمضان کے ایام ہیں ، جو ۲۹ یوم ہیں یا زیادہ سے زیادہ ۳۰ یوم۔ پس اس آیت سے نہایت واضح طور پر ثابت ہوا کہ ہر سال پورے ماہِ رمضان کا روزہ کل مسلمانوں پر فرض کیا گیا، پھر فرمایا:﴿فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ﴾ صیغۂ امر ہے، جو وجوب اور فرضیت کے لیے موضوع ہے۔ پس معنی یہ ہوئے کہ جو شخص تم مسلمانوں میں سے اس مہینے میں حاضر و موجود ہو، اس پر اس مہینے کا روزہ رکھنا فرض ہے۔ اس آیت سے وہی مضمون ثابت ہوا، جو پہلی آیت سے ثابت ہوا تھا کہ ہر سال پورے ماہِ رمضان کا روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس تکرار سے فرضیتِ صومِ رمضان کو موکد فرما دیا۔ پھر فرمایا:﴿اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ﴾ یعنی روزے کی رات میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمھارے لیے حلال کیا گیا۔ رات کی قید سے ثابت ہوا کہ روزے کے دن میں عورت کے پاس جانا حلال نہیں ہے اور جب حلال نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ حرام ہے۔ پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ روزے کے دن میں عورت کے پاس جانا حرام ہے۔ پھر فرمایا:﴿فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ﴾ ،﴿وَ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا﴾ [البقرۃ: ۱۸۷] یعنی جب روزے کی رات میں عورتوں کے پاس جانا تمھارے لیے حلال کر دیا گیا تو اب تم روزے کی رات میں اپنی عورتوں سے مباشرت کرو اور صرف مباشرت ہی نہیں ، بلکہ کھاؤ اور پیو بھی۔ یعنی کھانا اور پینا بھی روزے کی رات میں تمھارے لیے حلال کر دیا گیا۔ یہاں بھی رات کی قید سے معلوم ہوا کہ روزے کے دن میں جس طرح عورت کے پاس جانا حرام ہے، اسی طرح کھانا پینا حرام ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جو چیز حرام ہے، اس کا چھوڑ دینا فرض ہے۔ پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ روزے کے دن میں ان تینوں کاموں کا چھوڑ دینا فرض ہے۔ پھر آگے اس مضمون کو اور بھی واضح کر دیا اور فرمایا:﴿حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ [البقرۃ: ۱۸۷] یعنی روزے کی رات میں جو تمھارے لیے عورت کے پاس جانا اور کھانا پینا حلال کر دیا گیا تو یہ سب اس [1] ہفت روزہ ’’اہلحدیث‘‘ امرتسر (۴؍ اگست ۱۹۱۱ء، ۲۵؍ اگست ۱۹۱۱ء، ۱۸؍ ذی قعدہ ۱۳۲۹ھ)