کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 354
في صدقتک، وإن أعطاکہ بدرھم فإن العائد في صدقتہ کالکلب یعود في قیئہ )) [1] و اللّٰه تعالیٰ أعلم [عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو فی سبیل الله ایک گھوڑا بطورِ سواری عطا کیا تو اس نے اسے ضائع کر دیا، میں نے اسے خریدنا چاہا اور مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے ارزاں نرخوں پر فروخت کر دے گا، میں نے نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے خریدو اور نہ اپنا صدقہ واپس لو خواہ وہ ایک درہم میں تمھیں عطا کرے، کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا، اپنی قَے چاٹنے والے کی طرح ہے] قرض سے زکات کاٹنا اور زکات میں تصرف: سوال: اگر کسی شخص کے یہاں روپیہ باقی ہو اور روپیہ اس سے وصول بوجہ نادہندی کے نہ ہوتا ہو تو اس روپیہ کو اگر زکوۃ میں چھوڑ دیا جاے تو وہ زکوۃ ادا ہو سکتی ہے یا نہیں اور زکوۃ کے روپیہ سے مرمت کنواں یا مسجد یا کسی لڑکے یتیم کی شادی کرنا درست ہے یا نہیں ؟ جواب: خود زکوۃ دہندہ اگر اس روپیہ کو زکوۃ میں چھوڑ دے تو اُس سے زکوۃ ادا نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح اگر زکوۃ دہندہ زکوۃ کے روپیہ سے مرمت کنواں یا مسجد کی کرے یا یتیم لڑکے کی شادی کر دے تو اس سے بھی زکوۃ ادا نہیں ہو سکتی۔ زکوۃ کا کل روپیہ زکوۃ وصول کنندہ کے پاس پہنچا دینا لازم ہے، خود زکوۃ دہندہ کو اس میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ لقولہ تعالیٰ: ﴿خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً﴾ [الآیۃ] [ان کے مالوں سے صدقہ لے] ولحدیث: (( تؤخذ من أغنیائھم فترد علیٰ فقرائھم )) [2] [ان کے اغنیا سے لے کر ان کے فقرا و مساکین میں تقسیم کر دی جائے] رہن اور قرض میں دیے ہوئے مال کی زکات: سوال: ایک شخص نے ہزار روپیہ دے کر دس گھماؤ زمین رہن لی ہے، تو آیا اس ہزار روپیہ کی زکوۃ بعد حولانِ حول کے اس شخص پر فرض ہے یا نہیں ؟ عام رواج ہے کہ لوگ روپیہ دے کر زمین رہن لے لیتے ہیں اور مالک زمین جب تک روپیہ ادا نہ کرے، دس سال یا پندرہ سال ہوں ، اتنے سال کی زکوۃ روپیہ والا نہیں دیتا۔ کہتا ہے کہ میرے پاس روپیہ موجود نہیں ہے، کس چیز کی زکوۃ دوں اور زمین کا انتفاع کھاتا ہے۔ جب کچھ روپیہ جمع ہوجاتا ہے تو زمین رہن لے لیتا ہے۔ غرض بعض ہزار کا دولتمند ہے، بعض دو ہزار، بعض تین ہزار کا، مگر زمین گروی لے جاتا ہے اور روپیہ کی زکوۃ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۴۱۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۰۲) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۴۴۱) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۴۲۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۹)