کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 352
[ الله تعالیٰ کا فرمان:﴿خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ.....﴾ زکات وصول کرنے کا حق مطلق طور پر امام کے لیے واجب کرتا ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دونوں خلفا اسی پر کاربند رہے، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور لوگوں کے حالات بدل گئے تو انھوں نے ناپسند کیا کہ عاملینِ زکات لوگوں کے خفیہ مالوں کی جانچ پڑتال کریں ، لہٰذا انھوں نے اپنی نیابت میں متعلقہ اسٹاف کو یہ کام سونپ دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بارے میں ان سے کوئی اختلاف نہ کیا، مگر اس سے امام کا طلب کرنا سرے سے ختم نہیں ہوتا] ’’شرح معاني الآثار للطحاوي‘‘ (۱/ ۳۱۲) میں ہے: ’’للإمام أن یولي أصحاب الأموال صدقات أموالھم حتی یضعوھا مواضعھا، وللإمام أیضاً أن یبعث علیھا مصدقین حتی یعشروھا ویأخذوا الزکاۃ منھا، وھذا کلہ قول أبي حنیفۃ وأبي یوسف و محمد‘‘ [امام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مال دار لوگوں کو یہ کام سپرد کر دے کہ وہ اپنے مالوں کی زکات، زکات کے مصارف میں خرچ کریں ، نیز امام کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ صدقہ وصول کرنے والے عامل ان کے پاس بھیجے، جو ان سے عشر و زکات وصول کریں ، یہ سب امام ابو حنیفہ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا موقف ہے] ’’السیل الجرار‘‘ میں ہے: ’’جعل اللّٰه سبحانہ للعامل علی الزکاۃ جزئً ا منھا في الکتاب العزیز فالقول بأن ولایتھا إلی ربھا یسقط مصرفا من مصارفھا، صرح بہ اللّٰه سبحانہ في کتابہ العزیز‘‘[1]اھ [ الله سبحانہ وتعالیٰ نے کتابِ عزیز میں زکات کے عامل کے لیے زکات میں سے ایک حصہ رکھا ہے، پس اس موقف سے کہ زکات کی ادائی صاحبِ مال کے ذمے ہے، مصارف زکات میں سے ایک مصرف ساقط ہو جاتا ہے، جس کی الله نے اپنی کتاب میں صراحت کی ہے] پھر ’’السیل الجرار‘‘ میں ہے: ’’قد کان أمر الزکاۃ إلی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم بلا شک ولا شبھۃ وکان یبعث السعاۃ لقبضھا ویأمر من علیھم الزکاۃ بدفعھا إلیھم، وإرضائھم واحتمال معرتھم وطاعتھم، ولم یسمع من أیام النبوۃ أن رجلا أو أھل قریۃ صرفوا زکاتھم بغیر إذن من رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ، وھذا أمر لا یجحدہ من لہ أدنیٰ معرفۃ بالسیرۃ النبویۃ والسنۃ المطھرۃ، وقد انضم إلی ذلک التوعد علی الترک والمعاقبۃ بأخذ شطر المال وعدم الإذن لأرباب الأموال بأن یکتموا بعض أموالھم من الذین یقبضون الصدقۃ منھم بعد أن ذکروا لہ أنھم [1] السیل الجرار للشوکاني (۱/ ۲۶۰)