کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 346
وأما قولہ: فمن أخرج بعد الطلب لم تجزۂ ولو جاھلا، فلا وجہ لہ بعد أن أوضحنا لک أن أمرھا إلی الإمام بتلک الأدلۃ، بل من أخرج إلی غیرہ بغیر إذنہ لم تجزئہ ، وفي حکم الإذن منہ ما ھو معلوم من کثیر من الأئمۃ من تفویض أھل العلم والصلاح بصرف زکاتھم في مصارفھا، وصار ذلک کالعادۃ لھم، فإن ھذا بمنزلۃ الإذن لھم، وإن لم یقع الإذن صریحا‘‘[1] انتھی و اللّٰه أعلم [زکات تحصیل نے کا حق رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شک و شبہہ حاصل تھا اور آپ تحصیلدار کو زکات تحصیل نے کے لیے بھیجا کرتے تھے اور جن پر زکات فرض ہوتی ہے، ان کو حکم فرماتے تھے کہ تحصیلداروں کو دو اور ان کو راضی رکھو اور ان کی سختی کو برداشت کرو اور ان کی اطاعت کرو اور زمانہ نبوت میں کبھی یہ بات نہیں کی گئی کہ کسی شخص نے یا کسی بستی والوں نے بغیر حکم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے زکات خود بانٹی ہو اور یہ ایسی بات ہے، جس کا ایسا شخص انکار نہیں کر سکتا، جس کو سیرتِ نبویہ اور سنتِ مطہرہ کی معرفت ہے اور بایں ہمہ اس کے ترک پر آدھا مال چھین لینے کی دھمکی و سزا بھی ہے، مالکِ مال کو تحصیلداروں سے تھوڑا مال بھی چھپانے کی اجازت نہیں ہے، باوجودیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے تحصیلداروں کی زیادتی بھی بیان کی اور اگر لوگوں کو مال زکات بانٹنے کا خود اختیار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ضرور اس کی اجازت دیتے اور نیز الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں زکات میں سے اس کے تحصیلدار کا بھی ایک حصہ مقرر فرمایا ہے تو یہ کہنا کہ زکات کے بانٹنے کا اختیار اس کے مالک کو ہے، زکات کے مصرفوں میں سے ایک ایسی مصرف کو بیکار کر دینا ہے، جس کی صراحت خود خدا نے قرآن مجید میں فرما دی ہے اور نیز بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو زکات تحصیل نے کے لیے بھیجا تو انھوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ابنِ جمیل اور خالد بن ولید اور عباس زکات نہیں دیتے تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن جمیل تو زکات دینا اس وجہ سے نامنظور کرتا ہے کہ وہ ایک غریب آدمی تھا، الله و رسول نے اس کو مال دار کر دیا اور خالد پر تو تم خوامخواہ زبردستی کرتے ہو اس نے تو اپنی ساری زرہیں اور کل اسباب فی سبیل الله وقف کر دیا۔ باقی عباس کی زکات تو وہ زکات اور اسی قدر اور بھی میرے ذمہ ہے۔ پھر فرمایا: اے عمر! تم کو خبر ہے کہ چچا باپ ہی کے مثل ہے اور یہ حدیث اس بات کی خاص دلیل ہے کہ زکات بانٹنے کا اختیار مالکِ مال کو نہیں ہے، بلکہ مالکِ مال پر واجب ہے کہ زکات سردار یا اس کے نائب کے حوالے کر دے، اگر مالکِ مال کو اختیار ہوتا تو اس کو زکات کے مصرفوں میں خود تقسیم کرنے کا ضرور اختیار ہوتا اور اس کی قبولیت سردار کے پاس اور اس کے نائب کے [1] السیل الجرار (۱/ ۲۶۱)