کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 343
اور کہا ہے کہ یہ بہتر ہے اور ہم عید سے پہلے صدقہ فطر تحصیلدار کے پاس بھیج دینے کو مستحب جانتے ہیں ۔ نیز حدیث میں امام کے وصولِ زکات کے لیے عاملین کو بھیجنے کا بھی ذکر موجود ہے] ایضاً (۳/ ۲۸۵) میں ہے: ’’وفیہ بعث السعاۃ لأخذ الزکاۃ‘‘ اھ [اس حدیث سے بھی تحصیلداروں کو زکات تحصیل نے کے لیے بھیجنا ثابت ہے] ’’التلخیص الحبیر‘‘ (ص: ۱۷۶) میں ہے: ’’حدیث أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم والخلفاء بعدہ کانوا یبعثون السعاۃ لأخذ الزکاۃ، ھذا مشھور، ففي الصحیحین عن أبي ھریرۃ بعث عمر علی الصدقۃ، وفیھما عن أبي حمید: استعمل رجلا من الأزد، یقال لہ: ابن اللتبیۃ، وفیھما عن عمر أنہ استعمل ابن السعدي، وعند أبي داود أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بعث أبا مسعود ساعیا، وفي مسند أحمد أنہ بعث أبا جھم بن حذیفۃ متصدقا، وفیہ أنہ بعث عقبۃ بن عامر ساعیا۔ وفیہ من حدیث قرۃ بن دعموص: بعث الضحاک بن قیاس ساعیا، وفي المستدرک أنہ بعث قیس بن سعد ساعیاً، وفیہ من حدیث عبادۃ بن الصامت أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم بعثہ علی أھل الصدقات، وبعث الولید بن عقبۃ إلی بني المصطلق ساعیا، وروی البیھقي عن الشافعي أن أبا بکر و عمر کانا یبعثان علی الصدقۃ، وقد أخرجہ الشافعي عن إبراھیم بن سعد عن الزھري، بھذا وزاد: ولا یوخرون أخذھا في کل عام، وقال في القدیم: وروي عن عمر أنہ أخرھا عام الرمادۃ، ثم بعث مصدقا، فأخذ عقالین عقالین، وفي الطبقات لابن سعد أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بعث المصدقین إلی العرب في ھلال المحرم سنۃ تسع، وھو في مغازی الواقدي بأسانیدہ مفسرا‘‘[1] اھ [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آپ کے خلفا تحصیلداروں کو زکاۃ تحصیل نے کے لیے بھیجا کرتے تھے، یہ مشہور بات ہے، چنانچہ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر کو صدقہ تحصیل نے کے لیے بھیجا اور صحیحین میں ابی حمید کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ کو زکات تحصیل نے کے لیے بھیجا اور امام احمد کی مسند میں ہے کہ آپ نے ابو جہم بن حذیفہ کو زکات کی تحصیل کرنے کے لیے بھیجا اور اسی میں ہے کہ آپ نے عقبہ بن عامر کو زکات کی تحصیل کرنے کے لیے بھیجا۔ اور اسی میں قرہ بن دعموص سے روایت کی ہے کہ آپ نے ضحاک بن قیس کو زکات کی تحصیل کرنے کے لیے بھیجا اور حاکم کی مستدرک میں ہے کہ انھوں نے قیس بن سعد کو زکات کی تحصیل کرنے کے لیے بھیجا اور [1] التلخیص الحبیر (۲/ ۱۶۰)