کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 342
کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں زکات آپ کے تحصیلدار کے حوالے کر دوں تو کیا میں الله اور اس کے رسول کے نزدیک بَری ہوجاؤں گا۔ فرمایا: ’’ہاں اور تیرے لیے اس کا ثواب ہے اور اس کا گناہ اس پر ہے، جو اس کو بدل ڈالے۔‘‘ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر دو دن پہلے اس شخص کے پاس بھیج دیا کرتے تھے، جس کے پاس فطرہ جمع کیا جاتا تھا، اس کو امام مالک نے موطا میں روایت کی ہے اور امام شافعی کی روایت میں دو دن یا تین دن ہے۔ اور بخاری کی روایت میں ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ہے کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر سے ایک یا دو دن قبل صدقہ فطر لینے والوں کو دے دیا کرتے تھے] فتح الباری میں ہے: ’’قولہ: وکان ابن عمر یعطیھا للذین یقبلونھا، أي الذي ینصبہ الإمام لقبضھا، وبہ جزم ابن بطال وقال ابن التیمی: معناہ: من قال أنا فقیر، والأول أظھر، ویؤیدہ ما وقع في نسخۃ الصغاني عقب الحدیث، قال أبو عبد اللّٰه ، ھو المصنف: کانوا یعطون للجمع لا للفقراء، وقد وقع في روایۃ ابن خزیمۃ من طریق عبد الوارث عن أیوب قلت: متی کان ابن عمر یعطي؟ قال: إذا قعد العامل۔ قلت: متی یقعد العامل؟ قال: قبل الفطر بیوم أو یومین، ولمالک في الموطا عن نافع أن ابن عمر کان یبعث زکاۃ الفطر إلی الذي تجمع عندہ قبل الفطر بیومین أو ثلاثۃ، وأخرجہ الشافعي عنہ، وقال: ھذا حسن، وأنا أستحبہ یعنی تعجیلھا قبل یوم الفطر، وفي الحدیث بعث الإمام العمال لجبایۃ الزکاۃ‘‘[1]اھ [راوی کا یہ قول ہے کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر لینے والوں کو دے دیا کرتے تھے، اس کا یہ مطلب ہے کہ اس شخص کے حوالے کر دیا کرتے تھے، جس کو امام نے فطرہ تحصیل نے کے لیے مقرر کیا تھا اور ابن بطال نے بھی یہی معنی سمجھا ہے اور ابن تیمی نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو اپنے کو فقیر کہتا ہو، اس کو دے دیتے اور پہلی بات (کہ تحصیلدار کو دے دیا کرتے تھے) زیادہ صاف ہے اور وہ روایت اس معنیٰ کی تائید کرتی ہے جو صغانی کے نسخے میں اسی حدیث کے پیچھے ہے کہ امام ابو عبد الله بخاری نے کہا کہ وہ لوگ جمع کرنے کے لیے دے دیتے تھے نہ کہ خود فقیروں کو بانٹ دیتے تھے اور ابنِ خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ عبد الوارث کی سند سے ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کب دیتے تھے، کہا: تحصیلدار جب تحصیل نے کے لیے بیٹھتا، میں نے پوچھا: تحصیلدار کب بیٹھتا تھا، کہا: عید کے دو ایک دن قبل اور امام مالک کی موطا میں نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما عید کے دو تین دن پہلے ہی زکاتِ فطر اس کے پاس بھیج دیا کرتے تھے، جس کے پاس جمع ہوتا تھا اور شافعی رحمہ اللہ نے بھی انھیں سے روایت کی ہے [1] فتح الباري (۳/ ۳۷۶)