کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 331
کرنے کی نذر مانی تھی۔ چنانچہ ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تیرا باپ توحید کا اقرار کر لیتا اور پھر تو اس کی طرف سے روزے رکھتا اور صدقہ کرتا تو اس کو اس کا فائدہ ہوتا۔‘‘ (مگر جب اس کی موت کفر پر ہوئی ہے تو اسے ان چیزوں کا کوئی فائدہ نہ ہوگا)] وعن أبي ھریرۃ أن رجلا قال للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم : إن أبي مات، ولم یوص أفینفعہ أن أتصدق عنہ؟ قال: (( نعم)) [1] (رواہ أحمد و مسلم والنسائي وابن ماجہ) [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میرا والد فوت ہوگیا ہے اور اس نے وصیت نہیں کی ہے۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کو فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ] عن عائشۃ أن رجلا قال للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم : إن أمي افتلتت نفسھا، وأراھا لو تکلمت تصدقت، فھل لھا أجر إن تصدقت عنھا؟ قال: (( نعم )) [2] (متفق علیہ) [عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کی: میری والدہ اچانک فوت ہوگئی ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر انھیں بات چیت کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتیں ۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انھیں ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ] وعن ابن عباس أن رجلا قال لرسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : إن أمي توفیت أفینفعھا إن تصدقت عنھا؟ قال: (( نعم )) قال: فإن لي مخرفا فأنا أشھدک أني قد تصدقت بہ عنھا۔[3](رواہ البخاري والترمذي والنسائي وأبو داود) [عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میری والدہ فوت ہوگئی ہے۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کو فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں ‘‘ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک باغ ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کر دیا] وعن الحسن عن سعد بن عبادۃ أن أمہ ماتت فقال: یا رسول اللّٰه إن أمي ماتت أفأتصدق عنھا؟ قال: (( نعم )) قلت: فأي الصدقۃ أفضل؟ قال: (( سقي الماء )) قال: فتلک [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۳۰) مسند أحمد (۲/ ۳۷۱) سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۶۵۲) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۷۱۶) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۳۲۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۰۴) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۶۱۸) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۸۸۱) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۶۶۹) سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۶۵۵)