کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 329
کی نسبت ’’أن تشیر بأصبع واحدۃ‘‘ فرمانے کا اور آدابِ دعا کی نسبت ’’أن ترفع یدیک حذو منکبیک أو نحوھما‘‘[1] (مشکوۃ باب الدعا) کے کیا مطلب ہوں گے؟ تحریر فرمائیں ۔ جواب: استغفار بھی دعا میں داخل ہے۔ استغفار کے معنے ہیں مغفرت مانگنا اور دعا کے معنی ہیں کچھ مانگنا۔ کچھ مانگنے میں مغفرت مانگنا بھی آگیا۔ اسی لیے اس حدیث کو جس میں ’’أن تشیر بأصبع واحدۃ‘‘ [کہ تو ایک ہی انگلی سے اشارے کرے] ہے، مشکاۃ میں باب الدعوات میں ذکر کیا ہے۔ ’’أن تشیر بأصبع واحدۃ‘‘ ہاتھ اٹھا کر استغفار کرنے کے منافی نہیں ہے ، اس حدیث میں تین چیزوں کا ذکر ہے: 1۔مسئلہ۔ 2۔استغفار۔ 3۔ابتہال۔ یہ تینوں دعا کے اقسام ہیں ، ان میں کوئی بھی دعا سے خارج نہیں ہے۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۵؍ شوال ۱۳۳۰ھ) کیا عورت کی وفات کے بعد اس کا شوہر غیر محرم بن جاتا ہے؟ سوال: بعد مر جانے عورت کے شوہر اس کا غیر محرم ہے یا نہیں اور اگر ہے تو جس صورت میں اس عورت کا کوئی محرم نہ ہو یا ہو، اس صورت میں شوہر اس کے جنازہ کو لے جا سکتا ہے یا نہیں اور قبر میں لٹا سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب: شوہر عورت کا مرنے کے بعد کیا زندگی میں بھی غیر ذی محرم ہے، اس واسطے کہ ذو محرم اس کو کہتے ہیں ، جس سے کبھی نکاح جائز نہ ہو اور شوہر تو وہی ہے جس کے نکاح میں عورت ہے۔ عورت کا جنازہ لے چلنے اور اس کے قبر میں لٹانے کے لیے ذو محرم کی تخصیص نہیں ۔ ہر شخص (عورت کو اس سے کسی قسم کا تعلق نسبی یا مہری ہو یا نہ ہو) اس کا جنازہ لے کر چل سکتا ہے اور اس کو قبر میں لٹا سکتا ہے۔ محرم اور ذی محرم کا فرق صرف حالتِ زندگی میں ہے، مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں ۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رکھا تھا،جو انصاری تھے اور ان سے آپ کو نسبی یا مہری تعلق کچھ بھی نہیں تھا اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم وہیں پر موجود تھے۔ عن أنس قال: شھدنا بنت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم تدفن، وھو جالس علی القبر، فرأیت عینیہ تدمعان، فقال: (( ھل منکم من أحد لم یقارف اللیلۃ؟ )) فقال أبو طلحۃ: أنا۔ قال: (( فانزل في قبرھا )) فنزل في قبرھا۔[2] (رواہ البخاري) [انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کی تدفین کے وقت حاضر ہوئے، اس حال میں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کو آنسو بہاتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کوئی شخص ہے جس نے اس رات (اپنی بیوی سے) مقاربت نہ کی ہو؟‘‘ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کی قبر میں اترو۔‘‘ تو وہ ان کی قبر میں اترے] [1] مصدر سابق۔ [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۲۷۷)