کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 327
عن یزید بن الأسود قال: شھدت مع النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم حجتہ، فصلیت معہ صلاۃ الصبح في مسجد الخیف فلما قضیٰ صلاتہ، وانحرف إذا ھو برجلین في أخریٰ القوم لم یصلیا معہ فقال: (( علي بھما )) فجيء بھما ترعد فرائصھما، فقال: (( ما منعکما أن تصلیا معنا؟)) فقالا: یا رسول اللّٰه : إنا کنا قد صلینا في رحالنا، قال: (( فلا تفعلا، إذا صلیتما في رحالکما، ثم أتیتما مسجد جماعۃ، فصلیا معھم فإنھا لکما نافلۃ )) [1] (نیل الأوطار: ۲/ ۳۴۰) [یزید بن الاسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجدِ خیف میں صبح کی نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر کے لوگوں کی طرف رخ کیا تو دیکھا کہ دو آدمی لوگوں کے پیچھے موجود ہیں اور انھوں نے (جماعت کے ساتھ) نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلوایا۔ انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کی یہ حالت تھی کہ ان کے پٹھے کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’تمھیں کیا رکاوٹ تھی کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: ہم اپنی منزل میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو۔ جب تم اپنی منزل میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر تم مسجد میں آؤ، جہاں جماعت کھڑی ہو تو ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھو، یہ تمھارے لیے نفل ہوگی] نمازِ طواف کی بھی ان وقتوں میں اجازت دی ہے۔[2] (نیل الأوطار: ۲/ ۳۴۲) ان حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ ان اوقات میں وہی نماز منہی عنہ ہے، جس کے لیے کوئی سبب دوسرا سوائے تطوع کے نہ پایا جائے اور نمازِ جنازہ ایک تو فرض کفایہ ہے، نفل نہیں ۔ دوسرے جنازہ کا حاضر ہوجانا خود سبب ہے، بلکہ اس کی تجہیز و تکفین وغیرہ سے جلد فراغت کا حکم ہے۔ قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( یا علي! ثلاث لا تؤخرھا: الصلاۃ إذا آنت، والجنازۃ إذا حضرت۔۔۔ الخ )) [3] (أخرجہ الترمذي، نیل الأوطار: ۲/ ۳۳۶) [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر مت کرو: نماز جب اس کا وقت ہوجائے اور جنازہ جب تیار ہوجائے ۔۔۔‘‘ الخ] پس نمازِ عصر کے بعد نمازِ جنازہ پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ 2۔ مسجد میں جنازہ لے جانا جائز ہے۔ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وفات کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۷۵) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۱۹) سنن النسائي، رقم الحدیث (۸۵۸) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۸۹۴) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۸۶۸) سنن النسائي، رقم الحدیث (۵۸۵) مسند أحمد (۴/ ۸۰) [3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۷۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۴۸۶) مسند أحمد (۱/ ۱۰۵)