کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 317
اور حدیث کی صحت کے لیے اس کے کل راویوں کا سچا ہونا ضرور ہے اور جب اس حدیث کا راوی نمبر ۳ جھوٹا ہے تو یہ حدیث صحیح نہیں ۔ وجہ سوم: اس حدیث کی اسناد میں راوی حسن بصری رحمہ اللہ ہیں ، ان کی نسبت ’’تقریب التہذیب‘‘ میں ہے: ’’کان یرسل کثیرا ویدلس‘‘[1] یعنی حسن بصری رحمہ اللہ ارسال بہت کیا کرتے تھے اورتدلیس بھی کیا کرتے تھے۔ ’’میزان الاعتدال‘‘ میں ہے: ’’کان الحسن کثیر التدلیس، فإذا قال في حدیث: عن فلان۔ ضعف الاحتجاج بہ‘‘[2] یعنی حسن بصری رحمہ اللہ کثیر التدلیس تھے، پس جب یہ کسی حدیث میں ’’عن فلان‘‘ کہیں (یعنی عن کے ساتھ روایت کریں اور اپنا سماع اپنے شیخ سے نہ بیان کریں ) تو ان کے ساتھ احتجاج ضعیف ہوگا۔ صحتِ حدیث کے لیے اس کی اسناد کا من اولہ الی آخرہ متصل ہونا ضرور ہے اور جب راوی مدلس ہو اور ’’عن‘‘ کے ساتھ روایت کرے، یعنی اپنا سماع اپنے شیخ سے نہ بیان کرے تو سند کا متصل ہونا ثابت نہیں ہوتا اور ما نحن فیہ میں حسن بصری نے ’’عن‘‘ کے ساتھ روایت کی ہے، پس یہ حدیث صحیح نہیں ہوئی۔ الحاصل بیان بالا سے بخوبی ثابت ہے کہ حدیث زیرِ بحث صحیح نہیں ہے اور مسئلہ ثانیہ کہ ’’اگر عقیقہ میں گائے اور شتر کا ذبح کرنا بقول جمہور جائز ہے تو ایک گائے اور ایک شتر سات عقیقہ کے لیے کافی ہے یا نہیں ؟‘‘ کے متعلق بھی کوئی آیت یا حدیث معلوم نہیں ہوئی۔ پس اگر عقیقہ کے بارے میں کہا جائے کہ اس میں بھی مثل اضحیہ کے ایک گائے یا ایک شتر سات عقیقہ کے لیے کافی ہے تو یہ بات محض قیاساً علی الاضحیۃ کہی جا سکتی ہے، مگر یہ معلوم نہیں کہ عقیقہ کا قیاس اضحیہ پر صحیح بھی ہے یا نہیں ؟ امام احمد رحمہ اللہ کے قول ’’تشترط بدنۃ أو بقرۃ کاملۃ‘‘ [(عقیقے میں ) مکمل اونٹ اور گائے کی شرط لگائی جاتی ہے] سے جو نیل الاوطار (۴/ ۲۷۴) میں منقول ہے، ظاہر ہوتا ہے کہ امام احمد نے اس قیاس کو صحیح نہیں جانا اور امام رافعی کے قول ’’یجوز اشتراک سبعۃ في الإبل والبقر کما في الأضحیۃ‘‘[3] [اونٹ اور گائے میں قربانی کی طرح (عقیقے میں بھی) سات حصے داروں کا شریک ہونا جائز ہے] سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اس قیاس کو صحیح سمجھا، مگر ان کے اس قدر قول سے کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ انھوں نے دونوں (عقیقہ اور اضحیہ) میں کیا جامع قرار دیا ہے کہ اُس پر غور کیا جائے اور اگر جامع ان دونوں میں تقرب باراقۃ الدم قرار دیا جائے، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو اس پر یہ شبہہ ہوتا ہے کہ اس تقدیر پر لازم ہوگا کہ ہر دم متقرب بہ میں احکامِ اضحیہ معتبر ہوں ، حالانکہ ذبیحۃ العرس اور دیگر دماے ولائم میں کوئی بھی نہیں کہتا کہ ان میں احکامِ اضحیہ کا اعتبار لازم ہے، حالانکہ اس قائس کے نزدیک کل [1] تقریب التھذیب (ص: ۱۶۰) [2] میزان الاعتدال (۱/ ۵۲۷) [3] نیل الأوطار (۴/ ۲۷۴)