کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 315
کیا گائے میں میت کی طرف سے حصہ ڈالا جا سکتا ہے؟ سوال: ایک گائے میں سات آدمی جو شریک ہوتے ہیں ، ان ساتوں میں اگر بعض مُردہ بھی شریک کر لیے جائیں تو درست ہے یا نہیں اور اس مُردہ کے حصہ کا گوشت اس کے برادری والے کھا سکتے ہیں یا نہیں یا بالکل ہی خراب کر دیا جائے؟ جواب: اُن ساتوں میں اگر معین مردے بھی شریک کر لیے جائیں تو جائز ہے، اس لیے کہ اس میں اس قدر ہونا چاہیے کہ جملہ شرکا کی نیت تقرب کی ہو اور مردہ شریک کر لینے میں تقرب کی نیت فوت نہیں ہوتی اور اُس مردہ کے حصے کے گوشت کا وہی حکم ہے جو قربانی کے گوشت کا حکم ہے، کیونکہ وہ بھی تو قربانی ہی کا گوشت ہے۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه عقیقہ میں گائے اور اونٹ ذبح کرنے کا حکم: سوال: اگر کوئی شخص عقیقہ میں گائے ذبح کرے تو اس میں مثل اضحیہ کے سات عقیقہ جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: اس بارے میں کوئی نص میری نظر سے نہیں گزری ہے۔ ہاں قیاساً علی الاضحیہ جائز ہے، بشرطیکہ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث مرفوع: (( یعق عنہ من الإبل والبقر والغنم )) [1] [اس (بچے) کی طرف سے اونٹ، گائے اور بکری کے ساتھ عقیقہ کیا جائے] جو نیل الاوطار میں ، طبرانی اور ابو شیخ کے حوالے سے منقول ہے، قابلِ احتجاج ہو، مگر چونکہ ایسی کوئی کتاب، جس میں اس حدیث کی اِسناد یا ائمہ حدیث میں سے جو متساہل نہ ہوں ، ان کی تصحیح یا تحسین منقول ہو، میرے پاس موجود نہیں ہے، لہٰذا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ عقیقہ کا قیاس اضحیہ پر صحیح ہے یا نہیں ؟ نیل الاوطار (۴/ ۳۷۴) میں جو یہ عبارت منقول ہے: ’’ونص أحمد علیٰ أنھا تشترط بدنۃ أو بقرۃ کاملۃ‘‘ [امام احمد رحمہ اللہ نے یہ صراحت کی ہے کہ اس (عقیقے) میں مکمل اونٹ اور گائے کی شرط لگائی جاتی ہے] سو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس قیاس کو صحیح نہیں جانا اور امام رافعی کے قول: ’’ویجوز اشتراک سبعۃ في الإبل والبقر کما في الأضحیۃ‘‘ [اونٹ اور گائے میں قربانی کی طرح (عقیقے میں ) سات حصے داروں کی شراکت جائز ہے] سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اس قیاس کو صحیح سمجھا، مگر یہ نہیں بتایا کہ ان دونوں (عقیقہ اور اضحیہ) میں جامع کیا ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور اگر جامع ان دونوں میں ’’تقرب بإراقۃ الدم‘‘ [خون [1] المعجم الصغیر للطبراني (۱/ ۱۵۰) امام نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’رواہ الطبراني في الصغیر وفیہ مسعدۃ بن الیسع، وھو کذاب‘‘ (مجمع الزوائد: ۴/ ۵۸) علامہ البانی رحمہ اللہ اس حدیث کو موضوع قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں : فھو إسناد ساقط بمرۃ مسلسل من أولہ إلیٰ آخرہ بالعلل، أقواھا کذب مسعدۃ‘‘ (إرواء الغلیل: ۴/ ۳۹۴) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے عقیقے میں اونٹ ذبح کرنے کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: ’’معاذ اللّٰه ! ولکن ما قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : شاتان مکافئتان‘‘ (إرواء الغلیل: ۴/ ۳۹۰)