کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 310
وشھد لي بالبلاغ )) ثم یؤتیٰ بالآخر فیذبحہ بنفسہ فیقول: (( ھذا عن محمد وآل محمد )) فیطعمھما جمیعا المساکین، ویأکل ھو وأھلہ منھما۔ الحدیث[1] و اللّٰه تعالیٰ أعلم [علی بن حسین ابو رافع سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرنے کا ارادہ کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے اور چتکبرے مینڈھے خریدتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید پڑھا کر لوگوں کو خطبہ دے لیتے، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عید گاہ میں کھڑے ہوتے، تو ان دونوں میں سے ایک لایا جاتا تو چھری کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اسے ذبح کرتے۔ پھر فرماتے: ’’اے اللہ ! یہ میری امت کے ان تمام افراد کی طرف سے ہے، جنھوں نے تیری توحید کی گواہی دی ہے اور میرے ان تک (تیرا یہ پیغام) پہنچانے کی گواہی دی ہے۔‘‘ پھر دوسرا مینڈھا لایا جاتا تو اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے اور پھر فرماتے: ’’یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے ہے۔‘‘ پھر ان دونوں مینڈھوں کا گوشت مساکین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال سبھی لوگ کھاتے] قربانی کا جانور فروخت کرنے کا حکم: سوال: کسی شخص نے بہ نیتِ قربانی عید الاضحی ایک جانور جو عید الاضحی میں قربانی ہوتا ہے، خریدا، بعد خریدنے کے کچھ نفع ملا تو فروخت کر دیا، پھر دوسرا جانور خرید کر عید الاضحی میں قربانی کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: دوسرا جانور خرید کر عید الاضحی میں قربانی کرنے سے تو قربانی ادا ہوجائے گی، لیکن سابق جانور کے فروخت کرنے میں جو نفع ملا ہے، اس کو بھی صدقہ کر دینا ہوگا۔ ’’عن حکیم بن حزام رضی اللّٰه عنہ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم بعث معہ بدینار لیشتري لہ بہ أضحیۃ فاشتریٰ کبشا بدینار، وباعہ بدینارین، فرجع فاشتری أضحیۃ بدینار فجاء بھا، وبالدینار الذي استفضل من الأخری فتصدق رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم بالدینار فدعا لہ أن یبارک لہ في تجارتہ‘‘[2] (رواہ الترمذي وأبو داود، مشکوۃ شریف، چھاپہ أنصاری دہلی، ص: ۲۴۶) [حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی خرید لائیں ، چنانچہ انھوں نے ایک دینار میں جانور خریدا اور پھر اسے دو دینار میں فروخت کر دیا اور پھر لوٹتے ہوئے ایک دینار میں سے دوسرا جانور خریدا، چنانچہ انھوں نے اس جانور [1] مسند أحمد (۶/ ۳۹۱) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۳۸۶) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۵۷) اس حدیث کی سند میں ایک راوی مجہول اور انقطاع ہے، جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے۔