کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 307
قربانی کی کھال مسجد پر خرچ کرنے کا حکم: سوال: چرمِ قربانی کی قیمت مسجد میں صَرف ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ خاص کر اس مسجد میں جس کی مرمت کی دوسری صورت نہ ہو؟ جواب: قربانی کرنے والا اپنی قربانی کے چرم کی قیمت مسجد میں نہیں صَرف کر سکتا، اس لیے کہ قربانی کرنے والے کو اپنے چرمِ قربانی کا بیچنا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر قربانی کرنے والا اپنا چرمِ قربانی کسی شخص کو دے دے اور چرم مذکور کا اسے مالک بنا دے اور وہ شخص بخوشی خاطر اپنے چرم مذکور کو بیچ کر اس کی قیمت مسجد میں صَرف کرے تو یہ صورت جائز ہے۔ ’’نصب الرایۃ في تخریج أحادیث الہدایۃ‘‘ (۲/ ۲۷۹) میں ہے: ’’الحدیث السادس عشر: قال صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( من باع جلد أضحیتہ فلا أضحیۃ لہ )) قلت: رواہ الحاکم في المستدرک في تفسیر سورۃ الحج من حدیث زید بن الحباب عن عبد اللّٰه بن عیاش المصري عن الأعرج عن أبي ھریرۃ مرفوعاً بلفظہ سواء، وقال: حدیث صحیح الإسناد، ولم یخرجاہ۔ انتھی، ورواہ البیھقي في سننہ‘‘[1] [سولھویں حدیث: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنی قربانی کی کھال کو بیچے گا، اس کی قربانی (قبول) نہیں ہوگی۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک میں سورۃ الحج کی تفسیر میں زید بن حباب کی حدیث سے روایت کیا ہے، انھوں نے عبد الله بن عیاش المصری سے روایت کیا ہے، انھوں نے اعرج سے روایت کیا ہے، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بالکل انہی الفاظ میں مرفوعاً روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے] وفي مسند الإمام أحمدرحمہ اللّٰه (۴/ ۱۵) عن أبي سعید الخدري أن قتادۃ بن النعمان أخبرہ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قام فقال: (( إني کنت أمرتکم أن لا تأکلوا [الأضاحي] فوق [ثلاثۃ] أیام ۔۔۔ )) الحدیث، وفیہ: (( ولا تبیعوا لحوم الھدي والأضاحي، فکلوا وتصدقوا واستمتعوا بجلودھا ولا تبیعوھا )) [2] [مسند امام احمد رحمہ اللہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ یقینا نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: ’’میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ تم [قربانیوں کے گوشت] (تین) دن سے زیادہ نہ کھاؤ۔۔۔ الحدیث۔ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہدی اور اضاحی کے گوشت فروخت نہ کرو، لہٰذا تم کھاؤ، صدقہ کرو، ان کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ اور ان کو مت بیچو] [1] المستدرک للحاکم (۲/ ۴۲۲) سنن البیھقي (۹/ ۲۹۴) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۶۱۱۸) [2] مسند أحمد (۴/ ۱۵)