کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 305
مدرسہ میں دینا جائز ہوگا یا نہیں ؟ کیونکہ بوجہ دیہات کے چند اشخاص کا قول ہے کہ اگر علمائے دین مدرسہ میں دینے کو فرما دیں تو ہم لوگوں کو عذر نہیں ہے، ضرور دیں گے۔ 2۔ جو لوگ اپنی قوتِ بازو سے اچھی طرح اپنی اوقات بسری کرتے ہیں ، ان لوگوں کو بہ نیت اس کے کہ ہم قربانی کے مال کو ذبح کرتے ہیں ، یہ حق ہمارا ہے، ہم لیں گے، ان کو لینا جائز ہے یا نہیں ؟ یا جو شخص صاحبِ قربانی یہ تصور کر کے چمڑا قربانی کا ان لوگوں کو دے کہ ذبح کرنے کی اُجرت میں دیتے ہیں یا یہ تصور کر کے کہ اگر نہیں دیں گے تو ہمارے ساتھ عداوت کریں گے، ایسی حالت میں اس کی قربانی درست ہوئی یا نہیں ؟ یا جو لوگ قربانی کا چمڑا مدرسہ میں دینے سے انکار کریں یا منع کریں کہ مت دو ہم کو دو، وہ کون ہوں گے: گنہگار ہوں گے یا نہیں ؟ ازروئے قرآن شریف و حدیث شریف کے جو ثابت ہو، ساتھ ثبوت کے ارشاد فرمایا جائے۔ جواب: جس طرح قربانی کے گوشت کا قربانی کرنے والے کو خود بھی کھانا اور دوسرے لوگوں کو بھی (فقیر ہو یا غنی) کھلانا اور دینا جائز ہے، اُسی طرح قربانی کا چمڑا قربانی کرنے والے کو خود بھی اپنے تصرف میں اور دوسرے لوگوں کو بھی، جس کو چاہے، دے دینا جائز ہے اور جس طرح قربانی کے گوشت کا قربانی کرنے والے کو بیچنا یا کسی کو اُجرت میں دینا جائز نہیں ہے اور جس طرح قربانی کے گوشت کا طلبہ اور مدرسین کو دینا جائز ہے، اسی طرح قربانی کے چمڑا کا بھی ان لوگوں کو بھی دینا جائز ہے اور اگر قربانی کے گوشت یا چمڑے کو قربانی کرنے والا بیچے یا کسی کو اُجرت میں دے تو اس کی قربانی درست نہیں ہوئی۔ عن علي بن أبي طالب رضی اللّٰه عنہ قال: أمرني رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أن أقوم علی بدنہ، وأن أتصدق بلحومھا وجلودھا وجلالھا، وأن لا أعطي الجازر منھا شیئا: وقال: (( نحن نعطیہ من عندنا )) [1] (متفق علیہ) [علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو جاؤں (جب کہ وہ نحر کیے جا رہے تھے) اور ان کے گوشت، چمڑے اور جھول تقسیم کر دوں ، قصاب کو ان میں سے کوئی چیز نہ دوں اور فرمایا: ہم اس (قصاب) کو (اس کی مزدوری) ہم اپنے پاس سے دیں گے] وعن أبي سعید أن قتادۃ بن النعمان أخبرہ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قام فقال: (( إني کنت أمرتکم أن لا تأکلوا لحوم الأضاحي فوق ثلاثۃ أیام لیسعکم، وإني أحلہ لکم فکلوا ما شئتم، ولا تبیعوا لحوم الھدي والأضاحي، وکلوا وتصدقوا واستمتعوا بجلودھا، ولا تبیعوھا، وإن أطعمتم من لحومھا شیئاً فکلوا إلیٰ ما شئتم )) [2] (رواہ أحمد، المنتقی) [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۶۳۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۱۷) [2] مسند أحمد (۴/ ۱۵) منتقیٰ الأخبار مع شرحہ نیل الأوطار (۵/ ۱۹۱)