کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 294
الوقت فلہ ولھم )) وفي روایۃ أحمد في ھذا الحدیث: (( فإن صلوا الصلاۃ لوقتھا وأتموا الرکوع والسجود فھي لکم ولھم )) وقد روی الشافعي معنی ھذا الحدیث من طریق صفوان بن سلیم عن سعید بن المسیب عن أبي ھریرۃ مرفوعاً بلفظ: ((یأتي قوم فیصلون لکم فإن أتموا کان لھم ولکم، وإن نقصوا کان علیھم ولکم )) ’’قال ابن المنذر: ھذا الحدیث یرد علی من زعم أن صلاۃ الإمام إذا فسدت فسدت صلاۃ من خلفہ، وقال البغوي في شرح السنۃ: فیہ دلیل علیٰ أنہ إذا صلیٰ بقوم محدثا أنہ تصح صلاۃ المأمومین، وعلیہ الإعادۃ، واستدل بہ غیرہ علیٰ أعم من ذلک، وھو صحۃ الائتمام بمن یخل بشيء من الصلاۃ رکنا کان أو غیرہ، إذا أتم المأموم، ومنھم من استدل بہ علی الجواز مطلقا بناء، علیٰ أن المراد بالخطأ ما یقابل العمد، قال: ومحل الخلاف في الأمور الاجتھادیۃ کمن یصلي خلف من لا یری قراء ۃ البسملۃ، ولا أنھا من أرکان القراء ۃ، ولا أنھا آیۃ من الفاتحۃ بل یریٰ أن الفاتحۃ تجزیٔ بدونھا، قال: فإن صلاۃ المأموم تصح إذا قرأ ھو البسملۃ، لأن غایۃ حال الإمام في ھذہ الحالۃ أن یکون أخطأ، وقد دل الحدیث علی أن خطأ الإمام لا یؤثر في صحۃ صلاۃ المأموم إذا أصاب‘‘[1](انتھیٰ ملتقطا) [امام احمد رحمہ اللہ نے حسن بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ اس لفظ: (( ولھم )) کا اضافہ کیا ہے۔ ایسے ہی اسماعیلی اور ابو نعیم نے اپنی اپنی مستخرج میں اسے کئی سندوں سے حسن بن موسیٰ کے واسطے سے بیان کیا ہے۔ ابن حبان رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو دوسری سند سے بیان کیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : ’’چند قومیں ایسی ہوں گی جو نماز پڑھائیں گی، پس اگر وہ پوری نماز پڑھائیں تو تمھیں (اس نماز کا) ثواب ملے گے اور ان کو بھی۔‘‘ ابو داود نے عقبہ بن عامر سے مرفوعاً روایت کیا ہے: ’’جس نے بروقت لوگوں کو امامت کرائی تو اسے بھی اور ان کو بھی ثواب ملے گا۔‘‘ مسند احمد کی روایت میں اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’پس اگر وہ بروقت نماز پڑھائیں اور رکوع و سجود مکمل کریں تو تم کو بھی اور ان کو بھی اس کا ثواب ملے گا۔‘‘ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی حدیث کے مفہوم میں صفوان بن سلیم کے واسطے سے روایت کیا ہے، صفوان، سعید بن المسیب سے روایت کرتے ہیں اور سعید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : ’’ایک ایسی قوم آئے گی، جس کے امام تمھیں نماز پڑھائیں گے، پس اگر وہ مکمل نماز پڑھائیں تو ان کو بھی اور تمھیں بھی ثواب ملے گا اور اگر وہ نماز میں کسی طرح کی کمی کریں تو اس غلطی کا وبال ان پر ہوگا، تمھیں بہر حال ثواب ملے گا۔‘‘ [1] فتح الباري (۲/ ۱۸۸)