کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 288
فتحِ مکہ کے مکہ والوں پر صحرا میں نمازِ عید پڑھنے کا حکم جاری فرماتے، جس طرح اور احکام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جاری فرمائے، حالانکہ کہیں سے اس کا کچھ ثبوت معلوم نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں پر ایسا حکم کبھی جاری فرمایا ہو۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (۱/ ۵۲۱) میں امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ مکہ معظمہ میں جو نمازِ عید مسجد میں ہوتی ہے، اس کا سبب بھی مسجد کی کشادگی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کا مقتضا یہ ہے کہ مسجد یا صحرا میں نمازِ عید پڑھنے کی علت کا مدار تنگی اور کشادگی ہے۔ نفسِ صحرا کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے، یعنی اگر مسجد کشادہ ہے تو مسجد ہی میں پڑنی چاہیے اور مسجد تنگ ہے تو صحرا اور جو جگہ کشادہ ہو، اس میں پڑھنی چاہیے، کسی جگہ کی خصوصیت کو اس میں کچھ دخل نہیں ۔ فتح الباری کی عبارت یہ ہے: ’’قال الشافعي في الأم: بلغنا أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کان یخرج في العیدین إلی المصلیٰ بالمدینۃ، وکذا من بعدہ إلا من عذر مطر ونحوہ، وکذلک عامۃ أھل البلدان إلا أھل مکۃ، ثم أشار إلی أن سبب ذلک سعۃ المسجد و ضیق أطراف مکۃ، قال: فلو عمر بلد فکان مسجد أھلہ یسعھم في الأعیاد لم أر أن یخرجوا منہ، فإن کان لا یسعھم کرھت الصلاۃ فیہ، ولا إعادۃ، ومقتضیٰ ھذا أن العلۃ تدور علیٰ الضیق والسعۃ لا لذات الخروج إلی الصحراء، لأن المطلوب حصول الاجتماع فإذا حصل في المسجد مع أفضلیتہ کان أولیٰ‘‘ اھ[1] [امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام میں فرمایا ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ بلاشبہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عیدین (کی نماز ادا کرنے) کے لیے مدینے کی عید گاہ کی طرف جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد والے لوگوں (خلفا وغیرہ) کا یہی معمول تھا۔ پھر انھوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ بلاشبہ اس (اہلِ مکہ کا مسجد میں عید پڑھنے) کا سبب یہ ہے کہ مسجد حرام بہت وسیع ہے اور اطرافِ مکہ تنگ ہیں ۔ نیز ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شہر آباد کیا جائے اور اہلِ شہر کی مسجد عیدین کی نماز پڑھنے کی ان کو گنجایش فراہم کرتی ہو تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ شہر سے باہر نکلیں اور اگر اس مسجد میں اہلِ شہر کے نمازِ عید ادا کرنے کی گنجایش نہ ہو تو پھر شہر کے اندر مسجد میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے، اگر پڑھ لی جائے تو اس کا اعادہ لازم نہیں آئے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کا مقتضا یہ ہے کہ مسجد یا صحرا میں نمازِ عید ادا کرنے کی علت کا مدارتنگی اور کشادگی ہے، نفسِ صحرا کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے، کیونکہ اس کا مطلوب اجتماع کا حصول ہے۔ اگر مسجد سے یہ مطلب حاصل ہوجائے تو یہ اولیٰ اور بہتر ہے اور پھر یہ کہ مسجد ویسے بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں افضل ہے] [1] فتح الباري (۲/ ۴۵۰)