کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 279
ہر مسلمان کی نماز ہر مسلمان کے پیچھے بلاشبہ جائز ہے، اس میں کسی کی خصوصیت نہیں ہے اور عدمِ جواز کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ و اللّٰه أعلم۔ حررہ راجي رحمۃ اللّٰه : أبو الہدی محمد سلامت اللّٰه ، عفي عنہ الجواب صحیح۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ واضح ہو کہ یہ سوال متضمن تین امر کو ہے۔ پہلے امر کی نسبت یہ گزارش ہے کہ بلاوجہ شرعی جو لوگ باہمی ضد و شقاق کی و جہ سے دوسری مسجد (عید گاہ) بنانا چاہیں اور مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالیں ، وہ لوگ سورت توبہ کی آیت:﴿وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ کو پیشِ نظر رکھیں ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اس آیت کے مصداق ہوجائیں اور وہ مسجد حکم میں مسجد ضرار کے ہو جائے، جس کی شان میں ﴿لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَداً﴾ وارد ہے۔ دوسرے امر کی نسبت گزارش ہے کہ تعمیلِ معاہدہ و ایفائے وعدہ واجب ہے۔ قال اللّٰه تعالیٰ:﴿یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾ [المائدۃ: ۱] [اے لوگو جو ایمان لائے ہو! عہد پورے کرو] وقال أیضاً:﴿وَ اَوْفُوْا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْؤلًا﴾ [الإسراء: ۳۴] [اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کا سوال ہوگا] پس جو شخص اس حکم کی مخالفت کرے، اس میں ایک شمہ نفاق کا ہے، جس سے بچنا واجب و لازم ہے۔ تیسرے امر کے جواب میں یہ گزارش ہے کہ اہلِ حدیث سچے اور خاصے مسلمان ہیں ۔ ان کے پیچھے نماز جائز ہونے میں کیا کلام ہے؟ نماز تو ہر مسلمان کے پیچھے جائز و درست ہے، چہ جائیکہ ایسے لوگ؟ لقولہ علیہ السلام : ((الصلاۃ واجبۃ علیکم، خلف کل مسلم، برا کان أو فاجرا )) (أبو داود، کذا في المنتقی) [1] [نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: نماز تم پر واجب ہے، ہر مسلمان کے پیچھے، خواہ وہ نیک ہو یا فاجر] شرح عقائد نسفی (جس میں اہلِ سنت و جماعت کے عقائد کا بیان ہے) [2]میں ہے: (( صلوا خلف کل بر وفاجر )) [3] [ہر نیک اور برے شخص کے پیچھے نماز پڑھو] اس کے حاشیہ میں ہے: ’’خلافا للشیعۃ‘‘ یعنی ہر ایک نیک و بد مسلمان کے پیچھے نماز پڑھو، بخلاف رافضیوں کے کہ وہ برے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، بلکہ امام کا مجتہد یا معصوم ہونا شرط بتاتے ہیں ، پس اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ سنت کے یہاں یہ قید نہیں ہے۔ و اللّٰه أعلم۔ کتبہ: أبو الفیاض محمد عبدالقادر، عفي عنہ۔ [1] یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی تخرج گزر چکی ہے۔ [2] شرح عقائد نسفی میں اشاعرہ اور ما تریدیہ کے عقائد کا بیان ہے، لیکن غلط فہمی کی بنا پر عموماً اس کتاب میں مندرجہ تمام عقائد کو اہلِ سنت کے عقائد سمجھ لیا جاتا ہے۔ فلیتنبہ! [3] شرح العقائد النسفیۃ (ص: ۱۶۰)