کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 274
دوسری اور چوتھی حدیث کے تحت ذکر ہوچکی ہیں ۔ ان میں دو عبارتیں امام شوکانی رحمہ اللہ کی بھی ہیں ، جو ’’نیل الأوطار‘‘ میں ہیں ، چنانچہ وہ دوسری اور پانچویں حدیث کے ضمن میں گزر چکی ہیں ، و اللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب] نمازِ جمعہ کے بعد اردو میں وعظ کرنا: سوال: ہمارے ملک ہندوستان و پنجاب میں اکثر علما و محدثین وغیرہم کا یہ طریقہ ہے کہ بعد ادائے صلاۃ الجمعہ لوگوں کو مسجد میں بٹھا کر وعظ عام کرتے ہیں اور تا عصر اِتمامِ وعظ کر کے صلاۃ العصر ادا کرتے ہیں ۔ جو شخص اس وعظ میں شامل نہ ہو اور بعد ادائے صلاۃ الجمعہ چلا جائے تو اس کو زجر کرتے ہیں اور استماعِ وعظ پر اصرار فرماتے ہیں ۔ کیا یہ طریقِ زمان میمنت توامان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یا زمانِ صحابہ رضی اللہ عنہم یا خیر القرون میں پایا گیا ہے یا نہیں ؟ احادیثِ نبویہ سے تو اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف خطبے میں تذکیرِ عام فرماتے تھے نہ کہ بعد ادائے صلاۃ الجمعہ اور خلفاے اربعہ سے بھی وعظ بعد صلاۃ الجمعہ ثابت نہیں ہو سکا اور صراحتاً نصِ قرآن مجید و فرقانِ حمید بھی اس طریق کے برخلاف حکم فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿فَاِِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ﴾ [الجمعۃ: ۱۰] عند وجودِ شرط جزا کا وجود واجب ہے، خاص کر﴿فَانْتَشِرُوْا﴾ بصیغۂ امر مستلزمِ وجوب ہے، جیسا کہ﴿اِِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ﴾ میں ﴿فَاسْعَوْا﴾ مثبتِ امر وجوب ہے۔ اسی طرح آیتِ وضو:﴿اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ﴾ میں ﴿فَاغْسِلُوْا﴾ حکمِ وجوبی ہے۔ اسی طرح کے نظائر اور بھی ہزارہا ہیں ۔ پس بعد تعمقِ نظر فی الکتاب والسنۃ وعظ بعد صلاۃ الجمعہ بدعت معلوم ہوتا ہے، بلکہ بمقتضائے نصِ صریح واجب الترک ہے۔ حضرات محققین اپنے اپنے عندیہ سے جلد مسرور فرمائیں ۔ ابو الحاج (ع۔ ق ہمایونی) ہفت روزہ ’’اہلِ حدیث‘‘ امرتسر (۱۶؍جنوری ، ۲۶؍اپریل ۱۹۱۲ء) جواب: اس مسئلے میں جہاں تک مجھے معلوم ہے، یہی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ میں قرآن مجید پڑھتے اور تذکیر فرماتے، یعنی وعظ کہتے۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے: ’’کانت للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم خطبتان یجلس بینھما، یقرأ القرآن ویذکر الناس‘‘[1]الحدیث۔ میری نظر سے یہ کہیں نہیں گزرا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جمعہ کے بعد وعظ کہتے اور لوگوں کو اس کے لیے ٹھہراتے تھے۔ صیغۂ امر آیتِ کریمہ﴿فَاِِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا﴾ [الجمعۃ: ۱۰] میں ویسا ہی ہے، جیسا کہ آیت کریمہ﴿وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا﴾ [المائدۃ: ۲] میں ہے، یعنی اباحت کے لیے، وجوب کے لیے نہیں ہے۔ پس بعد نمازِ جمعہ ہر شخص کو مباح ہے کہ چلا جائے یا ٹھہرا رہے، نہ جانا ہی واجب نہ ٹھہر جانا ہی واجب اور نہ کوئی ان میں سے ممنوع۔ وعظ و تذکیر بعد نمازِ جمعہ کا وہی حکم ہے، جو اور وقتوں کا ہے تو جس طرح اور وقتوں میں وعظ و تذکیر جائز ہے، اسی طرح [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۶۲)