کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 264
ثانیاً: حدیث مذکور کی دوسری سند میں ایک راوی ’’محمد بن الحسن بن محمد المقریٔ‘‘ ہے، جو حدیث کی روایت میں جھوٹ بھی بولا کرتا تھا۔ علامہ ذہبی ’’میزان الاعتدال‘‘ (۲/ ۳۶۷) میں فرماتے ہیں : ’’محمد بن الحسن بن محمد بن زیاد الموصلي ثم البغدادي، أبو بکر النقاش، المقریٔ المفسر، قال طلحۃ بن محمد الشاھد: کان النقاش یکذب في الحدیث، والغالب علیہ القصص، وقال البرقاني: کل حدیث النقاش منکر، وقال أبو القاسم اللالکائي: تفسیر النقاش إشقاء الصدور لیس بشفاء الصدور‘‘ [محمد بن الحسن بن محمد الموصلی ثم البغدادی ابوبکر النقاش المقری المفسر کے بارے میں طلحہ بن زیاد الشاہد نے کہا کہ نقاش حدیث میں جھوٹ بھی بولا کرتا تھا، اس کا غالب شغل قصہ گوئی تھا۔ برکانی رحمہ اللہ نے کہا کہ نقاش کی ہر حدیث منکر ہے۔ ابوالقاسم اللالکائی رحمہ اللہ نے کہا کہ نقاش کی تفسیر دلوں کی بدبختی کا باعث ہے نہ کہ ان کی شفا کا] ثالثاً: حدیث مذکور کی دوسری سند میں ایک اور راوی ’’محمد بن خلیل بلخی‘‘ ہے، جو حدیثیں خود بنایا کرتا تھا۔ علامہ ذہبی ’’میزان الاعتدال‘‘ (۲/ ۳۷۵) میں فرماتے ہیں : ’’محمد بن خلیل الذھلي البلخي، قال ابن حبان: یضع الحدیث‘‘[1] [محمد بن خلیل ذہلی بلخی کے بارے میں ابنِ حبان رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ خود حدیثیں بنایا کرتا تھا] رابعاً: حدیث مذکور صحیح حدیث کی مخالف ہے۔ حدیث مذکور میں ہے: ’’فإنہ یورث النفاق‘‘ یعنی فارسی بولی مورثِ نفاق ہوتی ہے اور صحیح بخاری میں سورۂ جمعہ کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیتِ کریمہ﴿وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ﴾ [الجمعۃ: ۳] نازل ہوئی تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوتا تو بھی اہلِ فارس میں سے کتنے لوگ اس کو ضرور پا لیتے۔ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اگر فارسی بولی مورثِ نفاق ہوتی تو اہلِ فارس ایسی مدح کے مستحق نہ ہوتے۔ صحیح بخاری کی حدیث مذکور یہ ہے: عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال: کنا جلوسا عند النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فأنزلت علیہ سورۃ الجمعۃ:﴿وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ﴾ قال: قلت: من ھم یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟! فلم یراجعہ حتی سأل ثلاثا، وفینا سلمان الفارسي، وضع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یدہ علیٰ سلمان، ثم قال: (( لو کان الإیمان عند الثریا لنالہ رجل أو رجال من ھؤلاء )) وفي روایۃ أخری: (( لنالہ رجال من ھؤلاء )) [2] [1] اصل کتاب میں حدیث کی سند میں مذکور راوی کا نام ’’أحمد بن الخلیل‘‘ ہے اور اس کا ترجمہ نہیں مل سکا۔ [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۶۱۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۴۶)