کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 253
واستطرد في وعظہ القوارع القرآنیۃ کان أتم وأحسن، وأما قصر الوجوب بل الشرطیۃ علیٰ الحمد والصلاۃ، وجعل الوعظ من الأمور المندوبۃ فقط، فمن قلب الکلام وإخراجہ عن الأسلوب الذي تقبلہ الأعلام‘‘ [آگاہ رہو! مشروع خطبہ وہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ معمول ارشاد فرماتے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ترغیب و ترہیب کرتے۔ پس فی الحقیقت خطبے کی روح یہی ہے، جس کے لیے اسے مشروع قرار دیا گیا ہے۔ رہا خطبے میں الله تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا یا قرآن مجید کے کچھ حصے کی تلاوت کرنا تو یہ سب چیزیں شرعیتِ خطبہ کے معظمِ مقصود سے خارج ہیں ۔ اس طرح کی چیزوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے میں پایا جانا، اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ خطبے کا حتمی مقصود اور شرط لازم ہیں ۔ انصاف پسند شخص کسی شک میں مبتلا نہیں ہوتا کہ خطبے کا سب سے بڑا مقصود وعظ و نصیحت ہے نہ کہ وہ حمد و صلات جو خطبے کی ابتدا میں ہوتے ہیں ۔ عربوں کے ہاں یہ معروف طریقہ تھا کہ ان میں سے جب کوئی کسی جگہ کھڑے ہو کر کچھ کہنا چاہتا تو وہ اپنی گفتگو کا آغاز الله تعالیٰ کی حمد اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے ساتھ کرتا، یہ طریقہ کس قدر احسن اور اولیٰ ہے، لیکن اگر کوئی کہنے والا کہے کہ محفلوں میں سے کسی محفل میں جو شخص خطیب بن کر کھڑا ہوا، اس کو اس پر ابھارنے والی صرف یہ چیز ہے کہ وہ حمد و صلات بیان کرے تو اس کی یہ بات مقبول نہیں ہوگی، بلکہ ہر طبعِ سلیم ناگوار جانتے ہوئے اس کا رد کرے گی، جب یہ ثابت ہوچکا تو تمھیں یہ معلوم ہوجائے گا کہ خطبۂ جمعہ میں وعظ ہی وہ چیز ہے، جس کی خاطر کام کو لایا جاتا ہے، لہٰذا جب خطیب یہ کام کرے گا تو وہ مشروع کام کا کرنے والا شمار ہوگا۔ ہاں جب وہ اپنے خطبے کے آغاز میں الله تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے گا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے گا اور کچھ قرآنی آیات کی تلاوت کرے گا تو اس کا خطبہ مکمل اور احسن ہوگا۔ وجوب پر اکتفا کرنا، بلکہ حمد و صلات کی شرطیت کا قائل ہونا اور وعظ کو صرف امورِ مندوبہ میں سے قرار دینا، کلام کو الٹ پلٹ کرنے اور اسے اس اسلوب سے نکالنے کے مترادف ہے، جس کو نمایاں اور سرکردہ لوگ قبول کرتے ہیں ] اسی طرح کتاب زاد المعاد تصنیف حافظ ابن قیم رحمہ اللہ جلد (۱) میں خصائصِ یوم جمعہ میں سے خصیصہ (۳۳) مع فصل جو اس کے بعد ہے، قابلِ دید ہے۔[1] و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۰؍ صفر ۱۳۳۳ھ) خطبہ جمعہ میں اردو یا فارسی میں وعظ و نصیحت کرنا: سوال: 1۔خطبہ شرع شریف میں کس کو کہتے ہیں ؟ [1] زاد المعاد (۱/ ۴۰۷۔ ۴۱۱)