کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 251
بستی میں باہر میدان میں جمعہ ادا کرنا: سوال: ایک ہندوؤں کی بستی میں رہتا ہوں ۔ یہاں کوئی مسجد نہیں ہے اور نہ ہندوؤں کی شورش سے ابھی بننے کی امید ہے، مگر نمازِ پنج گانہ میں ایک خاص جماعت کے ساتھ پڑھتا ہوں ، مگر اذان بآواز بلند کہنے سے ہند و مانع ہوتے ہیں ۔ ایسی مجبوری کی حالت میں اگر جمعہ قائم کرنا چاہوں تو آہستہ سے اذان کہہ کر جمعہ پڑھ سکتا ہوں یا نہیں ؟ کیونکہ نہیں قائم کرنے کی حالت میں بہتیرے لڑکے اور سیانے کی نمازِ جمعہ فوت ہوجاتی ہے، چونکہ جہاں پر جمعہ ہوتا ہے، وہ جگہ دور ہے، یا تو آرہ جانا ہوگا، جو چارکوس ہے اور یا کاری ساتھ جانا ہوگا، جو ایک کوس پر ہے، علاوہ اس کے موسم برسات میں راستہ بند ہوجاتا ہے اور بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں ہم کیا کریں ؟ جواب سے شاد فرمائیے۔ باہم بستی سے باہر جاکر میدان میں اذان دے کر نمازِ جمعہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب: جس بستی کی یہ حالت ہے کہ وہ اس جگہ سے جہاں پر جمعہ ہوتا ہے، اس قدر دور ہے کہ وہاں جانے میں بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے بہتیرے لڑکوں اور سیانوں کی نمازِ جمعہ فوت ہوجاتی ہے اور موسم برسات میں راستہ بند ہوجاتا ہے، اُس بستی میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں اور اذان صرف اُس وقت دے، جب خطبہ شروع کرنا ہو، ایسی آواز سے کہ حاضرین سن لیں (تاکہ وہ لوگ بات چیت وغیرہ موقوف کر کے خطبہ سننے میں مشغول ہوجائیں ) کہنا کافی ہے۔ نیز یہ صورت بھی جائز ہے کہ اُس بستی سے باہر نکل کر میدان میں نمازِ جمعہ پڑھیں ۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۴؍ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ) سوال: بحضورِ اقدس دامت برکاتہم۔ السلام علیکم ورحمۃ الله و برکاتہ۔ فتویٰ مرسلہ حضور کا پہنچا، جس سے اجازت قیامِ جمعہ کی ثابت ہوئی، مگر یہ بات مخل رہ گئی کہ آج کل جو موسم برسات نہیں ہے اور وہ دقتیں جو موسم برسات میں پیش آتی ہیں ، آج کل وہ دقتیں پیش نہیں آتی ہیں ، مگر محض ایک کوس کا فاصلہ ہونے کی وجہ سے بہتیرے لڑکے اور سیانے نمازِ جمعہ نہیں ادا کر سکتے۔ لہٰذا آج کل ہم بستی مذکور میں اذانِ خفیہ سے جمعہ قائم کر سکتے ہیں یا نہیں یا موسم برسات ہی کی اجازت ہے؟ جواب: جو لڑکے اس جگہ، جہاں نمازِ جمعہ ہوتی ہے، جا سکیں ، جاکر ادا کریں اور جو نہ جا سکیں نہ جائیں ۔ لڑکوں پر نمازِ جمعہ فرض نہیں ہے اور سیانے اگر معذور (بیمار) ہیں تو ان پر بھی نمازِ جمعہ فرض نہیں ہے اور اگر معذور نہیں ہیں تو ان کو اس جگہ جا کر نمازِ جمعہ ادا کرنا چاہیے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں لوگ اس سے بھی زیادہ دور سے نمازِ جمعہ کے لیے آیا کرتے تھے۔ مشکوۃ شریف (ص: ۱۱۳) میں ہے: عن طارق بن شھاب قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( الجمعۃ حق واجب علیٰ کل مسلم في الجماعۃ إلا علیٰ أربعۃ: عبد مملوک أو امرأۃ أو صبي أو مریض )) [1] (رواہ أبو داود) [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۰۶۷)