کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 249
شھدتھا العامۃ أو لا، وإن لم یفتح بابہ و لم یأذن لھم بالدخول لا یجزئه ‘‘ انتھی [جمعے کی شروط میں سے اِذنِ عام (عام اجازت) ہے، یعنی جامع مسجد کے دروازوں کو کھول دے اور لوگوں کو آنے کی اجازت دے، حتی کہ اگر ایک جماعت اکٹھی ہو کر جامع مسجد میں دروازے بند کر کے جمعہ پڑھ لے تو ایسا جمعہ جائز نہیں ہے، اسی طرح بادشاہ اگر اپنے محل میں اپنے لوگوں کو لے کر نماز پڑھے تو اگر وہ دروازے کھول کر لوگوں کو آنے کی عام اجازت دے دے تو اس کی نماز صحیح ہے، عام لوگ آئیں یا نہ آئیں ، لیکن اگر اپنا دروازہ نہیں کھولتا اور لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا تو اس کا جمعہ نہیں ہوگا] کافروں کو مسجد میں آنے کی اجازت دینا حنفی مذہب میں درست ہے، جیسا کہ خاتم المفسرین مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تفسیر ’’فتح العزیز‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’وامام اعظم رحمہ اللہ میگویند کہ در آمدن کا فر در ہمہ مساجد درست است زیراکہ در زمان سعادت نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مہمان را گو کافر بودند در مسجد فروکش میکنانیدند چنانچہ وفد ثقیف را ودگر وفود را و نیز بتواتر معلوم ست کہ برائے ملاقات آنحضرت علیہ السلام یہودیان و نصاریٰ و مشرکی بے طلب اذن و پروانگی در مسجد می آمدند و می نشستند و ثمامہ بن اثال حنفی را آنحضرت علیہ السلام در حالت کفر بستونے از ستو نہائے مسجد بستہ گزاشتہ بو دند و ناسخ ایں عمل مستمر آنحضرت علیہ السلام ہم وارد نشدہ‘‘ انتھی [امام اعظم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کافر کا ہر مسجد میں آنا درست ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ سعادت نشان میں مہمان کو، اگرچہ وہ کافر ہی ہوتا ہے، مسجد میں ٹھہرایا جاتا تھا۔ چنانچہ وفدِ ثقیف اور دیگر وفود مسجد ہی میں فروکش ہوتے تھے۔ نیز تواتر کے ساتھ یہ معلوم ہے کہ یہودی، نصرانی اور مشرکین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے اذن و اجازت طلب کیے بغیر مسجد میں آتے اور بیٹھتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال حنفی کو حالتِ کفر میں مسجد (نبوی) کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس متواتر سنت اور طریقے کو منسوخ کرنے والی کوئی چیز بھی وارد نہیں ہوئی ہے] ہدایہ میں مرقوم ہے کہ قبیلہ ثقیف کے جو سفیر آئے تھے اور وہ کفار تھے، ان کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد میں اتارا تھا۔[1] تفسیر ابو السعود اور تفسیر مظہری و دیگر کتب معتبرہ میں مرقوم ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو بھی اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جو مسلمان بھی نہ تھے، بلکہ عیسائی مذہب رکھتے تھے اور وہ لوگ مع افسر، جس کا نام عبد المسیح تھا، ساٹھ آدمی تھے۔ یہ سب لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ طیبہ میں مقامِ نجران سے سفیر آئے تھے، آپ کی مسجد میں داخل ہوئے، وہیں ان کی نماز کا وقت آگیا تو نماز پڑھنے کو کھڑے ہوگئے۔ بعض اشخاص حاضرین ان کے مزاحم ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کو نماز پڑھنے کی اجازت دی اور ان بے جا مزاحمت کرنے [1] البنایۃ في شرح الھدایۃ (۱/ ۳۷۶) نیز دیکھیں : نصب الرایۃ (۴/ ۳۳۵) اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔