کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 240
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے کھڑا کر دیا۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز شروع کر چکے تو آپ تشریف لائے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا، آپ نے ان کو اشارہ فرمایا: (( أن امکث مکانک )) [1] یعنی اپنی جگہ پر رہو، پیچھے نہ ہٹو۔ (دیکھو: صحیح بخاری مع فتح الباری، چھاپہ دہلی: ۱/ ۳۷۸) یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس وقت فرمایا تھا کہ ابھی آپ نماز میں شامل نہیں ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز شروع کر چکے تھے۔ اس حدیث سے مصلی کا غیر مصلی سے تعلیم پانا ثابت ہوا۔ ورنہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسا نہ کرتے۔ اور سنیے! ہدایہ میں ہے کہ، امام جو مسافر ہو، جب سلام پھیرے تو اس کو مستحب ہے کہ مقتدیوں سے یوں کہے کہ: ’’أتموا صلاتکم فإنا قوم سفر‘‘[2] یعنی تم لوگ اپنی نماز کو پوری کر لیتے جاؤ، اس لیے کہ ہم مسافر ہیں ۔ یوں کہنا اس واسطے مستحب ہوا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکے کے لوگوں کو نماز پڑھائی تھی اور آپ مسافر تھے تو ان کو آپ نے فرمایا تھا۔[3] امام زیلعی ’’نصب الرایۃ تخریج أحادیث ہدایۃ‘‘ (ص: ۳۰۹) میں اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں : ’’أخرجہ أبو داود و الترمذي، وقال الترمذي: حدیث حسن صحیح، و رواہ الطبراني في معجمہ، وابن أبي شیبۃ في مصنفہ، وإسحاق بن راھویہ وأبو داود الطیالسي والبزار في مسانیدھم، ولفظ الطیالسي: قال: ما سافرت مع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سفرا قط إلا صلیٰ رکعتین۔۔۔ إلی قولہ: ثم حججت مع أبي بکر، واعتمرت فصلیٰ رکعتین، ثم قال: أتموا صلاتکم فإنا قوم سفر‘‘ اھ۔ [اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے طبرانی نے اپنی معجم میں اور ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں بھی روایت کیا ہے۔ نیز اسحاق بن راہویہ، ابو داود طیالسی اور بزار نے اپنی اپنی مسند میں اسے بیان کیا ہے۔ ابو داود طیالسی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ راوی نے کہا: میں نے جب بھی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعتیں پڑھائیں ۔۔۔ پھر میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج اور عمرہ کیا تو انھوں نے دو رکعتیں پڑھانے کے بعد کہا کہ تم اپنی نماز مکمل کر لو، بلاشبہ ہم تو مسافر ہیں ] اس حدیث کی تخریج کے بعد فرماتے ہیں : ’’أثر عمر، رواہ مالک في الموطأ، عن الزھري عن سالم بن عبد اللّٰه عن أبیہ أن عمر بن الخطاب کان إذا قدم مکۃ صلیٰ بھم رکعتین ثم یقول: یا أھل مکۃ أتموا [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۵۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۲۱) [2] الھدایۃ (۱/ ۸۱) [3] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۲۲۹) اس کی سند میں ’’علي بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف ہے۔