کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 231
وھو أعمیٰ۔ [1] (روہ أبو داود، وأخرجہ أیضاً ابن حبان في صحیحہ، و أبو یعلی والطبراني عن عائشۃ، وأخرجہ أیضاً الطبراني بإسناد حسن عن ابن عباس) [انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الله بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینے میں اپنا جانشین بنایا، چنانچہ یہی لوگوں کی امامت کراتے تھے اور یہ نابینا تھے] وعن محمود بن الربیع أن عتبان بن مالک کان یؤم قومہ، وھو أعمی، وأنہ قال: یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ! إنھا تکون الظلمۃ والسیل، وأنا رجل ضریر البصر، فصل یا رسول اللّٰه في بیتي مکانا أتخذہ مصلی، فجاء ہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال: (( أین تحب أن أصلي؟ )) فأشار إلی مکان في البیت، فصلیٰ فیہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔[2] (رواہ البخاري والنسائي، نیل الأوطار طبع مصر: ۳/ ۳۹) [محمود بن ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کراتے تھے اور وہ نابینے تھے۔ انھوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ کبھی اندھیرا، بارش یا بارشی پانی ہوتا ہے اور میں نابینا شخص ہوں (ایسی حالت میں مسجد نہیں آسکتا) لہٰذا آپ میرے گھر میں ایک جگہ نماز ادا فرمائیں ، جسے میں اپنی نماز کے لیے مقرر کر لوں ۔ چنانچہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تم کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں ؟ تو انھوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی] کتبہ: أضعف عباد الرحمن: محمد سلیمان، غفرلہ المنان ولد الزنا کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ سوال: ولد الزنا کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا تؤجروا۔ جواب: ولد الزنا کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کے بارے میں کوئی آیت یا حدیث وارد نہیں ہے، بلکہ حدیث میں آیا ہے کہ امامت کے قابل (( أقرأھم لکتاب اللّٰه )) [3] [لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن کریم کو پڑھنے والا] ہے تو اگر ولد الزنا میں اس بات کی صلاحیت ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، اس کے ولد الزنا ہونے سے اس کے حق میں کوئی خرابی نہیں آتی۔ بخاری شریف (پارہ سوم، ص: ۳۸۶ و ۳۸۷ مطبوعہ انصاری) میں ہے: ’’باب إمامۃ العبد والمولیٰ وولد البغي، لقول النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم : یؤمھم أقرأھم لکتاب اللّٰه ‘‘ انتھی ملخصاً [عبد، مولی اور ولدِ زنا کی امامت کا باب، کیونکہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ان کی امامت وہ کرائے جو لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۹۵، ۲۹۳۱) صحیح ابن حبان (۵/ ۵۰۶) المعجم الکبیر للطبراني (۱۱/ ۱۸۳) مسند أبي یعلیٰ (۷/ ۴۳۴) نیز دیکھیں : إرواء الغلیل (۲/ ۳۱۱) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۱۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۳) سنن النسائي، رقم الحدیث (۷۸۸) [3] فتح الباري (۲/ ۱۸۶)