کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 227
[صحیح مسلم میں ہے کہ بے شک رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: ’’جب کبیرہ گناہوں سے بچا جائے تو پانچ نمازیں ، جمعہ دوسرے جمعے تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ہونے والے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہیں ] وروی البخاري عن ابن مسعود رضی اللّٰه عنہ أن رجلا أصاب من امرأۃ قبلۃ فأتیٰ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فأخبرہ فأنزل اللّٰه ﴿وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ﴾ الآیۃ۔ فقال یا رسول اللّٰه ( صلی اللّٰه علیہ وسلم ) ألي ھذا؟ قال: لجمیع أمتي کلھم ورواہ مسلم۔[1] [امام بخاری رحمہ اللہ نے عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا، پھر اس نے آکر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’دن کے دونوں کناروں اور رات کی گھڑیوں میں نماز پڑھو۔۔۔‘‘ تو اس شخص نے دریافت کیا: اے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ میرے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری ساری امت کے لیے ہے] وفي لفظ: إني وجدت امرأۃ في بستان ففعلت بھا کل شییٔ غیر أني لم أجامعھا، قبلتھا ولزمتھا فافعل بي ما شئت، فلم یقل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم شیئاً فذھب الرجل فقال عمر: لقد ستر اللّٰه علیہ لو ستر نفسہ فأتبعہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم بصرہ فقال: ردوہ علي فردوہ، فقرأ علیہ:﴿وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ﴾ الآیۃ۔ فقال معاذ: أ لہ وحدہ؟ قال: بل للناس کافۃ۔[2] [ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس شخص نے کہا: میں نے باغ میں ایک عورت کو پایا، میں نے اس کے ساتھ سب کچھ کیا، صرف اس سے جماع نہیں کیا۔ میں نے اس کا بوسہ لیا اور اس سے چمٹ گیا۔ پس آپ میرے ساتھ جو چاہیں کریں ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ شخص چلا گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: الله تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی، کاش وہ بھی اپنی پردہ پوشی کرتا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے اپنی نگاہ لگائی۔ پھر کہا: اسے میرے پاس واپس لاؤ، لوگ اس کو واپس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: ’’دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کرو۔‘‘ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا یہ صرف اسی کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔‘‘ وروی ابن جریر من حدیث أبي أمامۃ أن رجلا أتیٰ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال: یا رسول اللّٰه أقم في حد اللّٰه ، مرۃ أو مرتین فأعرض عنہ، ثم أقیمت الصلاۃ فلما فرغ، قال: أین الرجل؟ قال: أنا ذا۔ قال: أتممت الوضوء وصلیت معنا؟ قال: نعم قال: فأنت من خطیئتک کما ولدتک أمک فلا تعد، وأنزل اللّٰه ﴿وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ﴾ الآیۃ۔ انتھیٰ ملتقطاً۔[3] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۰۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۶۳) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۶۳) [3] تفسیر ابن جریر (۷/ ۱۲۴) وانظر تفسیر ابن کثیر (۲/ ۶۰۶)